جارجیا میں ترکی کا فوجی طیارہ تباہ، 20 اہلکار سوار، وجوہات کی تحقیقات جاری

0
20

جارجیا میں ترکی کا سی-130 فوجی طیارہ منگل کے روز آذربائیجان سے روانہ ہونے کے کچھ دیر بعد گر کر تباہ ہو گیا، جس میں کم از کم 20 اہلکار سوار تھے۔ ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور حادثے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔

ابتدائی ویڈیوز میں طیارے کے ملبے کو گھاس والے علاقے میں بکھرا ہوا دکھایا گیا، جبکہ جہاز کے کچھ حصے اب بھی جل رہے تھے اور دھواں فضا میں بلند ہو رہا تھا۔ امدادی ٹیمیں اور ہیلی کاپٹرز جائے حادثہ پر موجود تھے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فوٹیج میں طیارے کو زمین کی طرف گھومتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد وہ شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا، تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے انقرہ میں ایک خطاب کے دوران اپنے “شہداء” کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔ تاہم ترک وزارت دفاع اور صدارتی دفتر نے ہلاکتوں یا حادثے کی وجہ سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ترکی کے سی-130 طیارے کے المناک حادثے پر گہرے رنج کا اظہار کرتا ہوں۔ ہماری دعائیں ترک بھائیوں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”

آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے اردوان سے بات چیت میں “فوجیوں کے نقصان” پر افسوس کا اظہار کیا۔

ترک وزارت دفاع کے مطابق طیارے میں 20 ترک اہلکار سوار تھے، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ حادثہ جارجیا کے سرحدی علاقے کاختی میں پیش آیا، جہاں ترک اور جارجی حکام مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن، جو سی-130 ہرکولیس طیارے کی تیاری کرتی ہے، نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی۔ یہ طیارہ دنیا بھر میں فوجی اور انسانی امدادی آپریشنز کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں