خیبر پختونخوا حکومت آج (بدھ) صوبائی اسمبلی میں امن جرگہ منعقد کرے گی، جس میں صوبے کی مجموعی امن و امان اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جرگے کے لیے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ تقریب میں 400 شرکاء کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ شرکت کرنے والوں کو خصوصی پاسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور سابق وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ تقریب میں 40 مقررین خطاب کریں گے۔ جرگے کا مشترکہ اعلامیہ وفاقی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور ایپکس کمیٹی کو پیش کیا جائے گا۔ غیر متعلقہ افراد کے اسمبلی احاطے میں داخلے پر پابندی عائد ہوگی۔
گورنر کی تعاون کی یقین دہانی
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے امن جرگے میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے اسے اعزاز قرار دیا کہ صوبائی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر امن کے لیے بات چیت ہوگی۔
انہوں نے گورنر ہاؤس پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ بطور آئینی سربراہ صوبے میں امن اور ترقی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
پی ٹی آئی وفد میں اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی، اسد قیصر، جنید اکبر، محبوب شاہ، عاطف خان، ڈاکٹر امجد اور سلیم الرحمان سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔
گورنر کنڈی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور مشترکہ کوششیں ہی صوبے کے استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہیں۔


