خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کی ویڈیو وائرل، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار شدید تنقید کی زد میں

0
31

ویب ڈیسک (ایم این این) – بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ایک سرکاری تقریب کے دوران نو تعینات خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد شدید سیاسی ردعمل کا سامنا کر رہے ہیں، بھارتی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا۔

یہ واقعہ پٹنہ میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ، سمود، میں پیش آیا جہاں ایک ہزار سے زائد آیوش ڈاکٹروں میں تقرری کے خطوط تقسیم کیے جا رہے تھے۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی خواتین کے وقار اور مذہبی آزادی سے متعلق خدشات سامنے آ گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب نصرت پروین نامی ڈاکٹر، جو وزیر اعلیٰ سے براہ راست تقرری نامہ وصول کرنے والے دس ڈاکٹروں میں شامل تھیں، اسٹیج پر آئیں۔ وہ حجاب میں ملبوس تھیں جو جزوی طور پر ان کا چہرہ ڈھانپ رہا تھا۔ نتیش کمار نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “یہ کیا ہے؟” اور پھر ان کا حجاب نیچے کر دیا۔

ویڈیو میں تقریب میں موجود بعض افراد کو ہنستے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خاتون ڈاکٹر واضح طور پر پریشان نظر آئیں۔ بعد ازاں ایک اہلکار انہیں اسٹیج سے لے گیا۔ اس دوران نائب وزیر اعلیٰ سمت چودھری کو بھی نتیش کمار کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس تقریب میں مجموعی طور پر 1,283 ڈاکٹروں کی تقرری کی گئی، جن میں 685 آیورویدک، 393 ہومیوپیتھک اور 205 یونانی معالج شامل تھے۔ زیادہ تر تقرری نامے آن لائن جاری کیے گئے جبکہ چند ڈاکٹروں کو ذاتی طور پر خطوط دیے گئے۔

واقعے پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل دیا۔ کانگریس پارٹی نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے “شرمناک عمل” قرار دیا اور نتیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، “یہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہیں، ایک خاتون ڈاکٹر تقرری نامہ لینے آئی اور انہوں نے اس کا حجاب ہٹا دیا۔ اگر ریاست کا اعلیٰ ترین عہدہ رکھنے والا شخص عوام میں اس طرح کا رویہ اختیار کرے تو خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔”

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے نتیش کمار کے رویے اور ذہنی کیفیت پر سوال اٹھائے۔

نتیش کمار 2015 سے بہار کے وزیر اعلیٰ ہیں اور 2025 کے ریاستی انتخابات کے بعد نویں مرتبہ اس عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں، تاہم ان کی صحت کے حوالے سے عوامی بحث جاری ہے۔

شدید تنقید کے باوجود وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

نومنتخب آیوش ڈاکٹرز آیوش میڈیکل سروسز اور نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت مختلف طبی مراکز میں خدمات انجام دیں گے، جہاں وہ خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں