گڑھی خدا بخش (ایم این این) — چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ہفتے کے روز وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ٹیکس وصولی سمیت مختلف شعبوں میں صوبوں کو زیادہ اختیارات دے تاکہ مرکز کو درپیش مالی مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔
گڑھی خدا بخش میں سابق وزیر اعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک وفاقی جماعت ہے جو قومی اور صوبائی سطح پر خلوص کے ساتھ سیاست کرتی ہے اور مرکز کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک عوامی اجتماع کے بعد دہشت گرد حملے میں شہید کیا گیا تھا۔
سندھ حکومت نے برسی کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کیا، جبکہ لاڑکانہ اور گڑھی خدا بخش میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ بھٹو مزار کے اطراف میں پولیس، رینجرز اور دیگر اداروں کے 8,500 سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔
بلاول نے کہا کہ صوبوں سے اختیارات واپس لینے کے بجائے بہتر ہوگا کہ وفاق انہیں مزید ذمہ داریاں دے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی معیشت اور حکومتی مسائل کے حل کے لیے اضافی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
ٹیکس وصولی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور صوبوں کو اس شعبے میں زیادہ کردار دیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے بہتر انداز میں محصولات اکٹھے کر سکتے ہیں۔
انہوں نے بجلی کی تقسیم کا نظام بھی صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صوبے اس شعبے میں مرکز سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
اپنی والدہ کا ذکر کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا آخری پیغام مفاہمت کا تھا اور موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے مفاہمت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سیاسی انتہا پسندی ترک کرنے اور ذمہ دارانہ سیاست اپنانے پر زور دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ پاکستان کے دفاع کے لیے تیار رہی ہے اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھی پارٹی نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے دشمن کو بھرپور جواب دیا۔
صدر زرداری نے ایک پیغام میں اتحاد کو تقسیم پر ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو جمہوریت کو بہترین انتقام سمجھتی تھیں۔ انہوں نے ایک جمہوری، جامع اور ترقی پسند پاکستان کے لیے ان کے وژن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی محترمہ بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست حب الوطنی، جرات اور جمہوری اقدار سے وابستہ تھی۔ انہوں نے جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور رواداری کے سفر کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی قیادت میں حکومتی وفد بھی وزیر اعظم کی ہدایت پر گڑھی خدا بخش پہنچا، جہاں انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوریت، خواتین کے حقوق اور قومی مفاد کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔


