دبئی (ایم این این): متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز سعودی عرب کے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا کہ اس نے یمن کے علیحدگی پسند دھڑوں کو اسلحہ فراہم کیا ہے، جبکہ دونوں خلیجی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔
یو اے ای نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ جس کھیپ کو سعودی قیادت میں اتحاد نے نشانہ بنایا، اس میں کوئی اسلحہ شامل نہیں تھا اور بندرگاہ پر اتاری گئی گاڑیاں کسی بھی یمنی فریق کے لیے نہیں تھیں۔ ابو ظبی نے علیحدگی پسندوں کی عسکری کارروائیوں میں کسی قسم کے کردار یا دباؤ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
سعودی عرب نے یو اے ای کی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی یمن میں پیش قدمی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مملکت کی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کو سرخ لکیر سمجھا جائے گا۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایسے اقدامات نہایت خطرناک ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ سخت موقف اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب سعودی قیادت میں اتحاد نے کہا کہ اس نے یمن کی بندرگاہ المکلا پر اتاری گئی ایک مبینہ اماراتی اسلحہ کھیپ کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔ اتحاد کے مطابق یہ کارروائی محدود نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد جنگی گاڑیوں اور اسلحے کو تباہ کرنا تھا۔
اے ایف پی کی فوٹیج میں المکلا بندرگاہ پر درجنوں فوجی گاڑیاں دیکھی گئیں، جن میں سے کئی جل کر تباہ ہو چکی تھیں اور دھواں اٹھ رہا تھا۔ سعودی میڈیا نے نگرانی کی ویڈیوز بھی نشر کیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے جہازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان یمن منتقل کیا گیا۔
حالیہ ہفتوں میں جنوبی یمن کی سابقہ خودمختار ریاست کی بحالی کے خواہاں علیحدگی پسندوں نے تیزی سے مختلف علاقوں پر قبضہ کیا ہے، جس سے یمن کی کمزور اور منقسم حکومت پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ جنوبی عبوری کونسل اگرچہ حکومت کا حصہ ہے، تاہم اندرونی اختلافات شدید ہوتے جا رہے ہیں۔
فضائی حملوں کے بعد یمن کی صدارتی قیادت کے سربراہ رشاد العلیمی نے ہنگامی حالت نافذ کرنے اور یو اے ای کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ جنوبی عبوری کونسل نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے ملک ایک نئے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔
سعودی عرب نے یو اے ای کے اقدامات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علیحدگی پسندوں کو سعودی سرحد کے قریب کارروائیوں پر اکسانا نہ صرف مملکت بلکہ یمن اور پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی مذمت کرتا ہے۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی تیل منڈی میں قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، تاہم خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی، خاص طور پر دبئی کی مارکیٹ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
سعودی اتحاد سے قریبی ذرائع کے مطابق سفارتی حل کا راستہ اب بھی موجود ہے، مگر اب تک کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔ ادھر، یمن کی قیادت نے یو اے ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اپنی افواج واپس بلائے اور یمنی گروہوں کی عسکری و مالی مدد بند کرے، جبکہ المکلا کے شہریوں نے حملوں کے بعد شدید خوف و ہراس اور گھروں کو پہنچنے والے نقصان کی شکایات کیں۔


