یمن حکومت کا حضرموت میں آپریشن، جنوبی علیحدگی پسندوں سے اہم فوجی کیمپ واپس لے لیا

0
16

ویب ڈیسک (ایم این این) – یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے جمعے کے روز حضرموت صوبے میں جنوبی علیحدگی پسندوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ایک بڑے اور اہم فوجی کیمپ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

حضرموت کے گورنر سالم احمد سعید الخنباشی نے اپنے بیان میں کہا کہ سرکاری فورسز نے الکھشعہ فوجی کیمپ پر قبضہ حاصل کر لیا ہے، جو صوبے کا سب سے بڑا اور اہم فوجی اڈہ ہے۔ گورنر نے اس کارروائی کو پہلے “پرامن آپریشن” قرار دیا تھا۔

تاہم جنوبی عبوری کونسل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی کسی بھی طور پر پرامن نہیں تھی۔

یمنی حکومت نے اعلان کیا کہ حضرموت کے گورنر کو مشرقی صوبے میں “ہوم لینڈ شیلڈ” فورسز کی مکمل کمان سونپ دی گئی ہے، جس کے تحت انہیں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ امن و امان بحال کیا جا سکے۔

یمن ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے گورنر الخنباشی نے کہا کہ یہ جنگ کا اعلان نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ فوجی کیمپ سکیورٹی کے لیے خطرہ نہ بنیں اور حضرموت بدامنی کا شکار نہ ہو۔

تیل پیدا کرنے والا حضرموت صوبہ سعودی عرب کی سرحد سے متصل ہے اور ثقافتی و تاریخی طور پر بھی سعودی عرب کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ کئی معروف سعودی شخصیات کی جڑیں اسی علاقے سے ملتی ہیں۔

دوسری جانب جنوبی عبوری کونسل کے ترجمان محمد النقیب نے کہا کہ خطے میں ان کی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایس ٹی سی کے مطابق الکھشعہ فوجی کیمپ کو تین فضائی حملوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

یمنی ذرائع کے مطابق سرکاری بکتر بند گاڑیاں اس فوجی کیمپ کی جانب بڑھتی دیکھی گئیں، جو ہزاروں فوجیوں کو رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جس پر دسمبر میں ایس ٹی سی نے قبضہ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ جنوبی عبوری کونسل نے گزشتہ ماہ جنوبی یمن کے بڑے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔

عدن ایئرپورٹ کی بندش
ادھر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی آپریشن کی معطلی جمعے کو بھی جاری رہی۔ سعودی عرب کے یمن میں سفیر محمد الجابر نے جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے سعودی وفد کو لے جانے والے طیارے کو عدن میں لینڈنگ کی اجازت نہیں دی۔

سعودی سفیر کے مطابق سعودی عرب نے کئی ہفتوں سے جنوبی عبوری کونسل کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، مگر عیدروس الزبیدی کی جانب سے مسلسل انکار اور سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الزبیدی نے جمعرات کو عدن ایئرپورٹ پر فضائی آمدورفت بند کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ ان علاقوں کے لیے مرکزی داخلی راستہ ہے جو حوثیوں کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں