میئر نیو یارک کی وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر تنقید، قانونی اور سلامتی خدشات کا اظہار

0
34

ویب ڈیسک (ایم این این): نیو یارک کے میئر زوہران مامدانی نے ہفتے کے روز وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی امریکی فوجی کارروائی کے ذریعے گرفتاری پر شدید تنقید کی اور انہیں نیو یارک میں وفاقی تحویل میں رکھنے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی منشیات اسمگلنگ اور اقتدار کی قانونی حیثیت پر الزامات کے بعد کی گئی۔

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پیغام میں کہا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ری پبلکن سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہے کہ مادورو کے خلاف امریکا میں فوجداری مقدمات چلائے جائیں گے۔

ایکس پر جاری بیان میں میئر مامدانی نے کہا کہ انہیں دن کے آغاز میں اس فوجی کارروائی اور اس کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیو یارک منتقل کرنے کے فیصلے پر بریفنگ دی گئی تھی۔

انہوں نے اس کارروائی کو قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ جنگ کے مترادف ہے اور یہ وفاقی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

میئر نے خبردار کیا کہ حکومت کی تبدیلی کی کھلی کوششوں کے اثرات صرف بیرون ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتائج نیو یارک پر بھی پڑتے ہیں، جہاں ہزاروں وینزویلا سے تعلق رکھنے والے افراد مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح تمام نیو یارک کے شہریوں کی سلامتی ہے اور انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

مامدانی کے مطابق شہری حکام حالات کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں گے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر ہدایات جاری کی جائیں گی۔

امریکی وفاقی حکام کی جانب سے تاحال میئر کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں