سوڈان میں خانہ جنگی شدت اختیار کر گئی، دارفور میں فوج اور آر ایس ایف کے حملوں میں 114 افراد ہلاک

0
26

ویب ڈیسک (ایم این این) – سوڈان کے مغربی دارفور کے دو شہروں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے حملوں میں کم از کم 114 افراد ہلاک ہو گئے، طبی ذرائع نے اتوار کو بتایا۔

اپریل 2023 سے سوڈان فوج اور آر ایس ایف کے درمیان خونریز جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ اکتوبر میں آر ایس ایف نے دارفور میں فوج کا آخری مضبوط ٹھکانہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جس کے بعد اس نے چاڈ کی سرحد کی جانب مغرب اور کوردوفان کے وسیع علاقے میں مشرق کی سمت پیش قدمی شروع کی۔

طبی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز شمالی دارفور کے شہر الزروق میں فوج کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں میں 51 افراد ہلاک ہوئے۔ حملوں میں بازار اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

الزروق آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دقلو کے اہل خانہ کی رہائش گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دقلو خاندان کے دو افراد بھی ان حملوں میں مارے گئے۔

اقوام متحدہ نے فوج اور آر ایس ایف دونوں پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں اور اس جنگ کو “مظالم کی جنگ” قرار دیا ہے۔

دوسری جانب آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے چاڈ کی سرحد کی جانب پیش قدمی کے دوران شہر کرنوی اور اس کے گردونواح میں کم از کم 63 افراد کو ہلاک کر دیا۔ مقامی اسپتال کے مطابق 57 افراد زخمی ہوئے جبکہ 17 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

دارفور کا بیشتر علاقہ شدید لڑائی اور مواصلاتی بندش کے باعث صحافیوں کی رسائی سے باہر ہے، جس کے باعث مقامی رضا کار اور طبی عملہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ماہ صرف دو دنوں میں کرنوی اور قریبی گاؤں ام بارو سے سات ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے، جن میں بڑی تعداد زغاوہ قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

جنگ کی شدت اب کوردوفان کے علاقے میں بھی بڑھ رہی ہے، جہاں شمالی کوردوفان کے دارالحکومت الابیض میں ڈرون حملوں کے باعث بجلی کا نظام متاثر ہوا۔

اس جنگ کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد کو خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں