اقوام متحدہ (ایم این این) – وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی پر عالمی تشویش میں اضافے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔ متعدد ممالک کا کہنا ہے کہ یہ بحران اب دوطرفہ کشیدگی سے آگے بڑھ چکا ہے اور خطے سمیت عالمی نظام کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔
یہ اجلاس کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا ہے جس کی چین اور روس نے حمایت کی، جبکہ وینزویلا نے بھی سلامتی کونسل سے باضابطہ رجوع کیا ہے۔ کونسل کی صدارت کے مطابق اجلاس “بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات” کے ایجنڈے کے تحت ہوگا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ارکان کو بریفنگ دیں گے۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ہفتے کے روز وینزویلا کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے اور ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حالیہ پیش رفت خطے کے لیے تشویشناک نتائج کی حامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کا مکمل احترام کرنا چاہیے، اور خبردار کیا کہ ان اصولوں سے انحراف عالمی قوانین پر مبنی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔
وینزویلا نے امریکی اقدام کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔ سلامتی کونسل کو ارسال کردہ خط میں وینزویلا کے مستقل مندوب نے کہا کہ یہ کارروائی ایک نوآبادیاتی جنگ کے مترادف ہے جس کا مقصد ملک کے سیاسی نظام کو تباہ کرنا اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
چین اور روس نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ چین نے ایک خودمختار ریاست کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور لاطینی امریکا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ روس نے کارروائی کو مسلح جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کو بیرونی فوجی مداخلت کے بغیر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں شدید اختلافات سامنے آنے کا امکان ہے اور کسی متفقہ فیصلے کی امید کم ہے، تاہم یہ بحث مستقبل میں بین الاقوامی قانون اور یکطرفہ فوجی اقدامات کے حوالے سے اہم نظیر بن سکتی ہے۔


