نیویارک (ایم این این): معزول وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے پیر کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں نارکو ٹیررازم کے الزامات پر خود کو بے گناہ قرار دے دیا۔ یہ پیشی اس وقت ہوئی جب انہیں کاراکاس میں اپنے گھر پر امریکی فوجی چھاپے کے دوران زبردستی حراست میں لیے جانے کے دو دن بعد امریکا منتقل کیا گیا۔
63 سالہ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزامات عائد ہیں۔ دونوں کو ہفتے کے روز کاراکاس میں امریکی کمانڈوز نے گرفتار کیا تھا، جنہیں ہیلی کاپٹروں، جنگی طیاروں اور بحریہ کی مدد حاصل تھی۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے مادورو نے کہا کہ انہیں وینزویلا سے “اغوا” کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق انہوں نے جج سے کہا، “میں بے قصور ہوں، میں مجرم نہیں ہوں”، اور دعویٰ کیا کہ وہ اب بھی اپنے ملک کے صدر ہیں۔ ان کی اہلیہ سیلیا فلورس نے بھی الزامات سے انکار کیا۔
عدالتی ذرائع کے مطابق مادورو کو نیویارک کی جیل میں ہی رکھا جائے گا، جبکہ ان کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر ہے۔
پیر کی صبح مادورو کو سخت سیکیورٹی میں ہیلی کاپٹر اور بکتر بند گاڑی کے ذریعے نیویارک کی عدالت پہنچایا گیا۔
تیزی سے بدلتی صورتحال پر وینزویلا کا ردعمل عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اتوار کی شب عبوری رہنما ڈیلسے روڈریگز نے اپنے ابتدائی سخت مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعاون کی پیشکش کی۔
ڈیلسے روڈریگز نے کہا، ہم امریکی حکومت کو مشترکہ تعاون کے ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اتوار کے روز کاراکاس میں تقریباً دو ہزار مادورو حامیوں نے مظاہرہ کیا، جن میں مسلح موٹر سائیکل سوار بھی شامل تھے۔ وینزویلا کی فوج نے ڈیلسے روڈریگز کو عبوری رہنما تسلیم کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
کسی سرکاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، تاہم وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے کہا کہ کارروائی میں مادورو کی سیکیورٹی ٹیم کے بڑے حصے کے علاوہ فوجی اہلکار اور شہری بھی مارے گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب وینزویلا کی صورتحال پر کنٹرول رکھتا ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مادورو کی برطرفی کے بعد انتخابات پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔
تیل تک رسائی کا مطالبہ
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو وینزویلا کے تیل اور دیگر وسائل تک مکمل رسائی درکار ہے تاکہ ملک کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ فوری یا آسان نہیں ہوگا۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے تیل بردار جہازوں کی ناکہ بندی کے ذریعے معاشی دباؤ برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ مزید فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ اگرچہ وینزویلا میں امریکی افواج کی موجودگی کی تصدیق نہیں، تاہم ساحل کے قریب ایک بڑا بحری بیڑا موجود ہے۔
اپوزیشن رہنما ایڈمنڈو گونزالیز اریتیا نے کہا کہ امریکی مداخلت اہم ضرور ہے، لیکن سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 2024 کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے اعتراف کے بغیر یہ ناکافی ہے۔
امریکی آپریشن کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ کیوبا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں اس کے 32 شہری ہلاک ہوئے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد کیوبا بھی دباؤ کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
وینزویلا کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔
مادورو کے اتحادی بدستور موجود
وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ امریکا مکمل نظام کی تبدیلی نہیں چاہتا بلکہ مادورو کی برطرفی اور ایک ایسی حکومت کے قیام کا خواہاں ہے جو تعاون پر آمادہ ہو، چاہے اس میں مادورو کے سابق اتحادی ہی کیوں نہ شامل ہوں۔
نکولس مادورو، جنہیں 2013 میں ہیوگو شاویز نے اپنا جانشین نامزد کیا تھا، چند طاقتور شخصیات کے ساتھ حکومت کرتے رہے، جن میں ان کی اہلیہ سیلیا فلورس، ڈیلسے روڈریگز، ان کے بھائی خورخے روڈریگز اور وزیر داخلہ دیوسدادو کیبیلو شامل ہیں۔
چین، روس اور ایران نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور مادورو کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین سمیت کئی امریکی اتحادیوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی اقدام کو لاطینی امریکا کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ انہوں نے کولمبیا کے خلاف امریکی دھمکیوں اور الزامات کو بھی مسترد کر دیا۔


