اسلام آباد (ایم این این): پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے پیر کو قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب سے متعلق مقدمات کی واپسی کے حوالے سے دستاویزات پیش کیں اور ایک بار پھر پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف مقرر کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
یہ پیش رفت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے ایک ماہ قبل بھیجے گئے اس خط کے بعد سامنے آئی ہے جس میں عامر ڈوگر سے عمر ایوب کے مقدمات کی قانونی حیثیت کے بارے میں تحریری وضاحت طلب کی گئی تھی۔ خط میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے آئینی عمل کی تکمیل کے لیے یہ معلومات ضروری ہیں۔
قومی اسمبلی کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق عامر ڈوگر نے اسپیکر کو مطلوبہ دستاویزات پیش کیں اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر محمود خان اچکزئی کی تقرری کا مطالبہ کیا، جبکہ اسپیکر ایاز صادق نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اقدامات آئین اور قانون کے مطابق کیے جائیں گے۔
اسپیکر نے کہا کہ اس معاملے پر آئندہ قومی اسمبلی اجلاس میں ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قائد حزب اختلاف کی تقرری کا عمل نئے سرے سے شروع کیا جائے گا اور اس حوالے سے قومی اسمبلی کے قواعد بالکل واضح ہیں۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب گزشتہ سال اگست سے خالی ہے، جب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 مئی کے مقدمات میں سزا کے بعد عمر ایوب کو نااہل قرار دیا تھا۔ اسی ماہ جیل میں قید پی ٹی آئی بانی عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو قائد حزب اختلاف نامزد کیا تھا، تاہم پی ٹی آئی کے مسلسل مطالبات کے باوجود اب تک اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو سکا۔
عمر ایوب نے اپنی نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم بعد ازاں اکتوبر میں درخواست واپس لے لی۔ اسپیکر ایاز صادق اس تاخیر کو پہلے معاملہ زیر سماعت ہونے سے جوڑتے رہے تھے۔
گزشتہ ماہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے خط میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ عمر ایوب کے مقدمات زیر سماعت نہیں، تاہم یہ بات تحریری طور پر سیکریٹریٹ کو نہیں بتائی گئی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مقدمات کی موجودہ قانونی حیثیت تحریری طور پر فراہم کی جائے تاکہ قائد حزب اختلاف کے اعلان کا آئینی عمل مکمل کیا جا سکے۔
مذاکرات کے لیے باضابطہ رابطہ نہیں
اس سے قبل، اسپیکر ایاز صادق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت سے مذاکرات کے لیے اب تک کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کا کردار صرف سہولت کار کا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا کمیٹی نظام آئینی تقاضوں کے مطابق فعال ہے اور وہ اپنے عہدے پر مکمل طور پر آزاد ہیں۔ قائد حزب اختلاف کی تقرری سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اپوزیشن کے چیف وہپ کو چار خطوط ارسال کیے گئے، جس کے بعد چوتھے خط پر اپوزیشن نے اپنے فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی جمع کرائی۔
اسپیکر نے کہا کہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کا آئینی عمل شروع کیا جائے گا، جو اپوزیشن ارکان کے دستخطوں کی جانچ اور تصدیق کے بعد آگے بڑھے گا۔
گزشتہ ماہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اپوزیشن سے مذاکرات کی پیشکش دہراتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت صرف جائز معاملات پر ہی ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام قومی کانفرنس میں شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جمہوریت میں مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔
اسی روز مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، جن میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما بھی شامل تھے، نے سیاسی استحکام کے لیے مکالمے اور تحمل پر زور دیا۔ تاہم بعد میں پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے مذاکرات نہیں کرے گی، اور یہ فیصلہ پارٹی بانی عمران خان کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔
بنگلہ دیش کا دورہ
اسپیکر ایاز صادق نے بنگلہ دیش کے اپنے حالیہ دورے کا بھی ذکر کیا جہاں وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی تدفین میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے مصافحہ کیا، جو مئی 2025 کے بعد پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ سطحی رابطے کی پہلی مثال تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی وفد کو بنگلہ دیشی عوام کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی۔ اسپیکر کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ خود آگے بڑھے اور ان سے مصافحہ کیا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے عبوری رہنما محمد یونس سے ملاقات بھی کی، جسے انہوں نے خوشگوار قرار دیا۔
ایاز صادق نے کہا کہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور عوامی روابط کے فروغ پر اتفاق ہوا اور انہوں نے بنگلہ دیشی عوام کی محبت کو ہمیشہ یاد رکھنے کا اظہار کیا۔


