ڈی جی آئی ایس پی آر کا انکشاف، 2025 میں بڑے دہشت گرد حملوں میں افغان ملوث، سال کو دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن قرار

0
43

راولپنڈی (ایم این این): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کو کہا کہ 2025 میں پاکستان میں ہونے والے تمام بڑے اور ہائی امپیکٹ دہشت گرد حملوں میں افغان شہری ملوث تھے، جبکہ 2025 کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اور فیصلہ کن سال قرار دیا۔

راولپنڈی میں تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بریفنگ کا مقصد گزشتہ سال کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا جامع جائزہ پیش کرنا ہے، کیونکہ دہشت گردی اس وقت پاکستان کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دو دہائیوں سے جاری ہے، تاہم 2025 میں آپریشنز کی شدت، قومی اتفاقِ رائے، عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی پذیرائی اور نیشنل ایکشن پلان کے ازسرِنو فعال ہونے کے باعث یہ سال غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔

انہوں نے کہا کہ 2025 میں ریاست اور عوام کو دہشت گردی کے حوالے سے مکمل وضاحت حاصل ہو گئی ہے، اور واضح کیا کہ دہشت گردوں کا نہ اسلام سے تعلق ہے، نہ پاکستان یا بلوچستان سے۔ ان کے مطابق فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان ریاست دشمن عناصر ہیں جنہیں بیرونی سرپرستی حاصل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ عالمی برادری اب اس حقیقت کو تسلیم کر رہی ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے، جبکہ نظرثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام پر سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ عملدرآمد جاری ہے، اگرچہ مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 میں سیکیورٹی فورسز نے 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن میں سب سے زیادہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ملک بھر میں 5,397 دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جن میں اکثریت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہوئی۔ اس دوران 2,597 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 1,235 سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔ 27 خودکش حملے بھی ہوئے، جن میں دو خواتین خودکش بمبار شامل تھیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گردی میں اضافے کو 2021 میں افغانستان کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے کہا کہ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے اور افغانستان مختلف دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بن گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو پناہ، تربیت اور تنظیمی معاونت فراہم کر رہے ہیں جبکہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست اور مالی مددگار ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ اب دہشت گرد استعمال کر رہے ہیں۔

پاک افغان سرحد پر اکتوبر 2025 میں ہونے والی کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا، افغان شہریوں یا طالبان کو نہیں، اور اس کا موازنہ بھارت کی مئی 2025 کی کارروائیوں سے نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سرحد کی بندش کے بعد دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی اور واضح کیا کہ دہشت گردی میں ملوث پاکستانی شہریوں کے خلاف کارروائی کا حق صرف پاکستان کو حاصل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے انسدادِ دہشت گردی کے تین بنیادی ستون انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سرحدی کارروائیاں اور تکنیکی نگرانی قرار دیے، جبکہ ڈرون کے غلط استعمال سے متعلق بیانیے کو مسترد کیا۔

انہوں نے بلوچستان میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو سراہتے ہوئے ضلعی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیوں، پولیس اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کو مثال قرار دیا۔

افغان مہاجرین کی واپسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان میں کیمپ کلیئر ہو چکے ہیں، تاہم خیبرپختونخوا میں پیش رفت سست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے انٹیلی جنس نظام کے باعث کراچی سمیت کئی بڑے دہشت گرد حملے ناکام بنائے گئے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی ہے اور یکجہتی کے ساتھ یہ جنگ جیتی جائے گی، اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو اس مقصد سے نہیں روک سکتی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں