ترکی کی پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کوششیں، رپورٹ

0
15

ویب ڈیسک (ایم این این): بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے خطے میں ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ سال ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

بلوم برگ نے معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ترکی کی شمولیت سے متعلق بات چیت آخری مراحل میں ہے اور معاہدہ طے پانے کے امکانات مضبوط ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے مفادات جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں تیزی سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں، جس کے باعث تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اتحاد منطقی قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوم برگ کا کہنا ہے کہ ترکی اس معاہدے کو اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے بھی اہم سمجھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط فوجی تعلقات ہیں۔

انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے ماہر نیہات علی اوزجان کے مطابق سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل پروگرام اور افرادی قوت، اور ترکی کی فوجی مہارت اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت ایک مضبوط مشترکہ اتحاد کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی خطے میں بدلتی ترجیحات، اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے سیکیورٹی نظام تشکیل دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور ترکی کی وزارتِ دفاع نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔

نیا دور
بلوم برگ کے مطابق اگر ترکی اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں ایک نئے دور کی علامت ہوگا، جو کئی برسوں کی کشیدگی کے بعد بہتر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک معاشی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور حال ہی میں انقرہ میں پہلی بار بحری مذاکرات بھی کیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سعودی عرب اور ترکی دونوں ایران کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں، تاہم وہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے بلوم برگ نے بتایا کہ ترکی پاک بحریہ کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تعمیر کر رہا ہے اور پاک فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی معاونت کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی دونوں ممالک کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے اور اپنے کان پانچویں نسل کے لڑاکا طیارہ پروگرام میں شمولیت کی پیشکش بھی کر چکا ہے۔

یہ سہ فریقی دفاعی بات چیت مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد ہونے والے سیزفائر کے تناظر میں جاری ہے۔

رپورٹ میں افغانستان کے ساتھ پاکستان کی کشیدگی اور ترکی و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے اسٹریٹیجک دفاعی تعاون، معاشی مفادات اور مشترکہ اسلامی اقدار پر قائم ہیں، جبکہ ترکی کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکی پاکستان کا دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔ مشترکہ بحری جہازوں، طیاروں کی جدید کاری اور ڈرون منصوبوں نے دونوں ممالک کے عسکری تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں