تہران (ایم این این): ایران کے بڑے شہروں میں رات گئے حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ شدت اختیار کر گیا، جبکہ کارکنوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انٹرنیٹ کی مکمل بندش کی آڑ میں حکام کریک ڈاؤن تیز کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 65 تک پہنچ چکی ہے۔
دو ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک ایرانی حکام کے لیے حالیہ برسوں کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ پر ان کے پیچھے ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود جمعہ کی رات تہران سمیت کئی شہروں میں بڑے مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ بین الاقوامی میڈیا کی تصدیق شدہ تصاویر اور سوشل میڈیا ویڈیوز میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود دکھائی دی۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ہفتے کی صبح تک ملک گیر انٹرنیٹ بندش کو 36 گھنٹے مکمل ہو چکے تھے، جس کے باعث یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز بغیر نگرانی کے طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔
ایران ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق احتجاج 180 شہروں کے 512 مقامات پر پھیل چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 50 مظاہرین، 14 سیکیورٹی اہلکار اور ایک سرکاری حامی شہری ہلاک ہوئے جبکہ 2,300 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ متعدد افراد کو پیلٹ گنز اور پلاسٹک کی گولیوں سے زخمی کیا گیا۔
ایرانی حکام نے تاحال ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسے ایسی تشویشناک رپورٹس موصول ہو رہی ہیں جن کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے غیر قانونی استعمال میں اضافہ کیا ہے۔
نوبیل انعام یافتہ شیرین عبادی نے خبردار کیا کہ انٹرنیٹ بندش کے پردے میں بڑے پیمانے پر قتل عام کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق صرف تہران کے ایک اسپتال میں آنکھوں کے سینکڑوں زخمیوں کا علاج کیا گیا۔
ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس گروپ نے کم از کم 51 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، تاہم کہا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تہران کے سعدآباد اور پونک علاقوں میں عوام نے سڑکوں پر نکل کر نعرے لگائے، برتن بجائے اور آگ کے گرد رقص کیا۔ اسی طرح مشہد، تبریز، قم اور ہمدان میں بھی بڑے مظاہرے رپورٹ ہوئے، جہاں بعض مقامات پر شاہی دور کے پرچم بھی لہرائے گئے۔
ایران کے معزول شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے مظاہرین کی بڑی تعداد کو سراہتے ہوئے ہفتے اور اتوار کو مزید منظم احتجاج کی اپیل کی اور کہا کہ شہر کے مراکز پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ انہوں نے ایران واپسی کی تیاری کا دعویٰ بھی کیا۔
دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے شیراز سمیت مختلف شہروں میں اہلکاروں کی آخری رسومات کی فوٹیج نشر کی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین کو شرپسند قرار دیتے ہوئے غیر ملکی مداخلت کا الزام لگایا، جبکہ ایرانی فوج نے قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا کہ ملک اس وقت بیرونی سازشوں پر مبنی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران شدید مشکلات سے دوچار ہے اور مظاہرین ایسے شہروں میں کنٹرول حاصل کر رہے ہیں جہاں کا تصور چند ہفتے قبل ممکن نہیں تھا، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔


