اسلام آباد (ایم این این): پاک فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر نے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ یہ بات ہفتے کے روز آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، جو ان دنوں عراق کے سرکاری دورے پر ہیں، نے عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد راضی الاسدی سے عراقی فضائیہ کے ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ایئر چیف مارشل کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں دوطرفہ عسکری تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں مشترکہ تربیت، صلاحیتوں میں اضافہ اور عملی تعاون کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان اور عراق کے درمیان گہرے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے عراقی فضائیہ کی تربیت اور استعداد کار میں اضافے کے لیے پاک فضائیہ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
دونوں فریقین نے باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ فضائی مشقوں اور تربیتی پروگرامز جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کی تعریف کی اور پاک فضائیہ کے عالمی معیار کے تربیتی نظام سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔
عراقی کمانڈر نے خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ دونوں فضائی افواج کے درمیان دفاعی تعلقات اور پیشہ ورانہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر طیارہ پاکستان اور چین کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں بنگلہ دیش نے بھی جے ایف-17 طیاروں کی ممکنہ خریداری میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ اس کے علاوہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دو ارب ڈالر کے سعودی قرض کو جے ایف-17 طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت کر رہے ہیں، جو گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کے بعد عسکری تعاون کو مزید وسعت دے گا۔


