مئی 9 کا تشدد منظم سازش تھا، فرانزک شواہد سامنے آ گئے: عظمیٰ بخاری

0
16

لاہور (ایم این این): پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے اتوار کو کہا ہے کہ 9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت، ٹول پلازوں اور ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے، جس کے ناقابلِ تردید شواہد اب پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ میں سامنے آ چکے ہیں۔

اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ فرانزک رپورٹ نے حکومتی مؤقف کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ تشدد اچانک نہیں بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھا، اور اس میں وہی عناصر ملوث تھے جو بعد میں ان واقعات سے لاتعلقی اختیار کرتے رہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 9 مئی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج ہوا، جس کے دوران فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس، جناح ہاؤس پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان فسادات کے بعد پارٹی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ تشدد کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد انہی افراد نے کیا جو براہِ راست ان واقعات میں ملوث تھے، اور ان کے بیانات، جن میں مراد سعید کے بیانات بھی شامل ہیں، ریکارڈ پر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مئی 9 کے واقعات سے متعلق شواہد اس سے پہلے بھی قوم کے سامنے رکھے گئے، لیکن پی ٹی آئی قیادت نے ہمیشہ کی طرح حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے جھوٹے بیانیے گھڑنے کو ترجیح دی۔

“جھوٹ بولنا پی ٹی آئی کی محض عادت نہیں بلکہ ایک دائمی بیماری بن چکا ہے، جس سے نکلنے کی وہ نہ خواہش رکھتی ہے اور نہ صلاحیت،” عظمیٰ بخاری نے کہا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ جناح ہاؤس پر دھاوا بولنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد عام لوگ نہیں تھے بلکہ پی ٹی آئی کے عہدیدار اور ٹکٹ ہولڈرز تھے۔ اس کے باوجود، ان واقعات کو ایک نام نہاد فالس فلیگ آپریشن قرار دینے کی منظم کوشش کی گئی۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خود پی ٹی آئی کے بانی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے تو وہ معذرت کریں گے، مگر بار بار شواہد سامنے آنے کے باوجود نہ کوئی ندامت نظر آئی اور نہ حقائق کو قبول کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری ایشیا کے معتبر ترین اداروں میں شمار ہوتی ہے، اور 23 دسمبر کو جاری کی گئی رپورٹ میں پشاور کے واقعات کا مکمل فرانزک تجزیہ شامل ہے، جس کی بنیاد ویڈیو اور تصویری شواہد ہیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلانے، متعدد ٹول پلازوں پر حملوں اور ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات واضح طور پر درج ہیں، جو سنگین جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام شواہد عدالت میں قابلِ قبول ہیں اور فسادات، توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ “ریاست کو گالیوں، دھمکیوں اور جھوٹ کے ذریعے بلیک میل کرنے کی سیاست اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی،” اور قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں