کراچی (ایم این این): عالمی جونیئر چیمپئن آمنہ عرفی اور محمد زکریا نے کراچی اوپن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین اور مردوں کے ٹائٹل اپنے نام کر لیے، جہاں کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں شائقین نے دونوں نوجوان مصری کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔
خواتین کے فائنل میں عالمی نمبر تین آمنہ عرفی نے ملائیشیا کی سیواسنگری سبرامنیئم کو یکطرفہ مقابلے میں 3-0 سے شکست دی۔ آمنہ نے 11-8، 11-2 اور 11-7 کے اسکور سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے رواں سیزن کا اپنا چوتھا ٹائٹل جیتا۔
میچ کے بعد آمنہ عرفی نے کہا کہ فائنل ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ وہ اور سیواسنگری اس سیزن میں کئی بار ایک دوسرے کے مدمقابل آ چکی ہیں۔ انہوں نے کراچی کے شائقین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بہترین ماحول بنایا اور دونوں کھلاڑیوں کی حمایت کی۔
مردوں کے فائنل میں مصری کھلاڑی محمد زکریا اور علی ابو الینین کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوا جو 100 منٹ سے زائد جاری رہا اور شائقین کو محظوظ کرتا رہا۔
علی ابو الینین نے پہلا گیم 11-9 سے جیتا، تاہم محمد زکریا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے دوسرا گیم 11-9 سے اپنے نام کیا، حالانکہ اس دوران انہیں گھٹنے پر چوٹ لگنے کے باعث مختصر وقفہ بھی کرنا پڑا۔
تیسرے گیم میں ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب زکریا خود کو فاتح سمجھ کر کورٹ سے باہر چلے گئے، مگر الینین کی جانب سے پلیئر ریویو طلب کیے جانے پر کھیل دوبارہ شروع ہوا اور طویل مقابلے کے بعد الینین نے 14-12 سے گیم جیت لیا۔ زکریا نے چوتھا گیم 11-7 سے جیت کر مقابلہ 2-2 سے برابر کر دیا۔
فیصلہ کن پانچویں گیم میں علی ابو الینین کو جسمانی مسائل کا سامنا رہا، جبکہ زکریا نے برتری برقرار رکھتے ہوئے 11-7 سے گیم اور میچ جیت لیا۔ آخری پوائنٹ پر ایک بار پھر پلیئر ریویو ہوا، تاہم ریفری کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور زکریا کی فتح کا اعلان کیا گیا۔
میچ کے بعد محمد زکریا نے کہا کہ وہ اپنی فٹنس پر سب سے زیادہ مطمئن ہیں اور 18 سال کی عمر میں پہلا گولڈ لیول ٹائٹل جیتنا ان کے لیے ایک یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی ابو الینین کے ساتھ بڑے فائنل میں کھیلنا ان کے لیے فخر کی بات ہے۔
علی ابو الینین نے بھی زکریا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھتے ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں دونوں کے درمیان مزید بڑے مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔


