اسلام آباد (ایم این این): جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ایڈہاک ججوں اور بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کو مستقل بنانے کی سفارش کر دی، جبکہ ایک جج کی مستقلی کی منظوری نہ دی جا سکی۔
یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیشن نے اکثریتی رائے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز محمد اعظم خان، محمد آصف اور انعام امین منہاس کو مستقل جج بنانے کی سفارش کی۔
اسی طرح کمیشن نے متفقہ طور پر بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس نجم الدین منگل کو مستقل جج بنانے کی منظوری دی۔ تاہم بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج ایوب خان کی مستقلی کی سفارش اکثریتی رائے سے منظور نہ ہو سکی۔
جو جج کمیشن کی جانب سے منظور کیے گئے ہیں، وہ صدرِ مملکت کی منظوری کے بعد مستقل حیثیت اختیار کریں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے منظور شدہ ججوں میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس کو براہ راست آئی ایچ سی میں ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا، جبکہ جسٹس محمد آصف کو پہلے بلوچستان ہائی کورٹ میں تعینات کیا گیا اور بعد ازاں صدارتی حکم کے ذریعے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ اسی حکم کے تحت جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔
ان تبادلوں کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں اندرونی اختلافات سامنے آئے، جہاں بعض جج سپریم کورٹ میں فریق بنے جبکہ دو جج سندھ ہائی کورٹ میں نجی درخواست گزار کے طور پر پیش ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 16 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے سب سے زیادہ فیصلے کیے، جن میں سنگل بینچ میں 2039 اور ڈویژن بینچ میں 500 سے زائد مقدمات شامل ہیں۔ جسٹس محمد اعظم خان نے سنگل بینچ میں 1841 اور ڈویژن بینچ میں تقریباً 600 مقدمات نمٹائے، جبکہ جسٹس محمد آصف نے 1338 مقدمات کے فیصلے کیے۔
واضح رہے کہ جسٹس محمد آصف کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک شکایت بھی زیر سماعت ہے، جس میں ان پر اپنے بیٹے سے متعلق ہٹ اینڈ رن کیس میں اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ شکایت کے مطابق دسمبر 2024 میں پیش آنے والے واقعے میں دو بچیاں جاں بحق ہوئیں، جبکہ بعد ازاں متاثرہ خاندانوں کی جانب سے معافی دیے جانے پر ملزم کو ضمانت مل گئی۔
ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جسٹس آصف نے واقعے کے فوراً بعد اپنے عہدے کا ناجائز استعمال نہیں کیا اور متاثرہ خاندانوں سے معذرت بھی کی، تاہم ووٹنگ کے دوران جسٹس کیانی اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے ان کی مستقلی کی مخالفت کی۔
ادارہ جاتی اور پالیسی امور پر غور
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس کے دوران ادارہ جاتی اور پالیسی نوعیت کے اہم معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ ان میں ہائی کورٹس کے آئینی بینچز کے لیے ججوں کے انتخاب کا معیار، ججوں کے انٹرویوز کا طریقہ کار اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (ججوں کی تقرری) قواعد 2024 میں ترامیم شامل تھیں، خاص طور پر وفاقی آئینی عدالت میں تقرریوں کے حوالے سے۔
کمیشن نے ایک کمیٹی کو ہدایت دی کہ وہ ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے، تاکہ آئینی فریم ورک پر مؤثر اور شفاف عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔


