ڈیرہ اسماعیل خان/لکی مروت (ایم این این): خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پیر کے روز پولیس کی بکتر بند گاڑی پر آئی ای ڈی حملے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں ایک الگ دھماکے میں تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
ٹانک پولیس کے ترجمان کے مطابق دھماکہ گومل پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔ پولیس کی بکتر بند گاڑی گومل پولیس اسٹیشن سے ٹانک کی جانب جا رہی تھی کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔ شہدا میں ایک ایڈیشنل ایس ایچ او بھی شامل تھا۔
ریسکیو 1122 نے شہدا کی لاشیں ٹانک ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیں۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور سیکیورٹی آپریشن شروع کر دیا۔
دوسری جانب لکی مروت کے علاقے درہ تنگ روڈ پر آئی ای ڈی دھماکہ ہوا جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق ایک ایس ایچ او اور دیگر اہلکار معمولی زخمی ہوئے اور خطرے سے باہر ہیں۔ یہ حملہ جبر خیل کے قریب گشت کے دوران کیا گیا۔ پولیس نے حملے کا الزام فتنہ الخوارج، یعنی کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ عناصر پر عائد کیا۔
لکی مروت کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نذیر خان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے پولیس کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور پولیس عوام کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹانک حملے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور شہدا کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر اعلیٰ پولیس حکام سے فوری رپورٹ طلب کی اور کہا کہ کے پی پولیس کے بہادر جوانوں نے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پشت پناہی سے ہونے والی ایسی کارروائیاں قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی حملوں کی شدید مذمت کی اور پولیس کی قربانیوں کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔


