اسلام آباد (ایم این این): وفاقی حکومت نے پیر کے روز وہ آرڈیننس واپس لے لیا جس کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ اسے صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بغیر نافذ کیا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صدر زرداری کو خصوصی اقتصادی زونز ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لینے کی سمری ارسال کی۔ پیپلز پارٹی نے اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اس اقدام پر اعتراض اٹھایا تھا، بعد ازاں پارٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ اعتراض ایس ای زیڈ آرڈیننس سے متعلق تھا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اب سرکاری امور ای آفس کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں اور مذکورہ آرڈیننس بھی اسی طریقہ کار کے تحت منظور ہوا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ موصول ہونے والی فائل پر صدر کے دستخط موجود نہیں تھے۔
انہوں نے اسے ایک انتظامی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے درست کر لیا گیا ہے اور خیرسگالی کے طور پر آرڈیننس کو نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اچھے تعلقات کی وجہ سے یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی کی شازیہ مری نے اعلان کیا کہ پارٹی منگل کے اجلاس میں شرکت کرے گی۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے صورتحال کو سنگین آئینی بے ضابطگی قرار دیا اور کہا کہ صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کا نفاذ آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ معاملہ حل ہونے تک پارٹی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی۔
وزیر قانون نے پیپلز پارٹی ارکان کو واپس آنے کی کوشش کی اور یقین دہانی کرائی کہ معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ بعد ازاں کورم کی نشاندہی پر اجلاس معطل کر دیا گیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس منگل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
ادھر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے عمل کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی معاملات نمٹنے کے بعد اب نامزدگی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ اسپیکر نے اپوزیشن کو منگل تک نام جمع کرانے کی ہدایت کی، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے ایک بار پھر محمود خان اچکزئی کو متفقہ امیدوار قرار دیا۔


