اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعرات کو وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی پر 2 فروری تک پابندی عائد کرتے ہوئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو جاری مہم پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے یہ احکامات محمد نوید احمد کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیے۔ درخواست گزار کے وکیل مدثر لطیف عباسی جبکہ حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سرفراز رؤف پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں قواعد و ضوابط کے برخلاف بڑے پیمانے پر درخت کاٹے جا رہے ہیں، جس سے ماحولیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے اور عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1997 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
عدالت نے حکومت سے استفسار کیا کہ ماحولیاتی قوانین کے باوجود درختوں کی کٹائی کیوں جاری ہے، جس پر سی ڈی اے کو فوری طور پر تمام سرگرمیاں روکنے کا حکم دیا گیا۔
عدالت نے سی ڈی اے، پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی اور پیراوائز جواب طلب کر لیا، جبکہ سماعت 2 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔
درخواست میں بتایا گیا کہ شکرپڑیاں سمیت اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی کی گئی، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق 29 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے تاہم حکومت نے شجرکاری کا دعویٰ کیا۔
درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ درختوں کی کٹائی کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے، متعلقہ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کے لیے آزاد نگران نظام قائم کیا جائے اور متاثرہ علاقوں میں بڑے درخت دوبارہ لگائے جائیں۔


