اسلام آباد (ایم این این)- اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے سوشل میڈیا پر متنازع پوسٹس کے مقدمے میں وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری حاضری نہ دینے اور عدالتی کارروائی میں بدنظمی پر ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ سمیت ضمانت منسوخ کر دی۔
یہ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت درج کیا گیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دی اور مسلح افواج کو دہشت گردی سے جوڑنے کا تاثر پیدا کیا۔
سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج محمد افضل مجوکہ نے کی، جبکہ ریاست کی جانب سے پراسیکیوٹر رانا عثمان پیش ہوئے۔
کارروائی کے آغاز پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ معاون وکیل نے ایمان مزاری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ ہادی علی چٹھہ ہائیکورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں مصروف ہیں۔
عدالت نے عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استثنیٰ کی درخواست پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ جج نے خبردار کیا کہ مسلسل غیر حاضری کی صورت میں جرح کا حق ختم کر دیا جائے گا، جس کے بعد سماعت دوپہر تک ملتوی کر دی گئی۔
دوبارہ سماعت شروع ہونے پر ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ایمان مزاری خود استغاثہ کے گواہ شہروز پر جرح کرنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے دفاع کو جرح مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ناکامی کی صورت میں یہ حق ختم کر دیا جائے گا۔
اس دوران اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری نعیم گجر عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی درخواست کی، ساتھ ہی یقین دہانی کرائی کہ اس کے بعد التوا نہیں مانگا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمان مزاری علیل ہیں لیکن جرح خود کرنا چاہتی ہیں۔
پراسیکیوشن نے التوا کی مخالفت کرتے ہوئے فوری طور پر جرح شروع کرنے کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران بار صدر اور پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی کے باعث عدالت کا ماحول کشیدہ ہو گیا، جس پر جج نے کارروائی روک کر وقفہ کر دیا۔
وقفے کے بعد ایک بار پھر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ پراسیکیوٹر نے عدالتی بد نظمی اور بار قیادت کے رویے پر اعتراض اٹھایا۔
ان حالات کے پیش نظر عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کا حکم دے دیا، جبکہ جرح کا حق بھی باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کے بیانات دفعہ 342 ضابطہ فوجداری کے تحت ریکارڈ کرنے کی بھی ہدایت دی۔
کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی۔


