ویب ڈیسک (ایم این این)- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں، تاہم انہوں نے حکومت مخالف احتجاج کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں قابلِ اعتماد ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ ایران میں سزائے موت پر عملدرآمد کا کوئی منصوبہ نہیں اور قتل و غارت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اطلاعات درست ہوں گی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق حالیہ ملک گیر مظاہروں کے دوران 2,400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ احتجاج کا آغاز معاشی بحران کے خلاف ہوا تھا، جو بعد ازاں ایرانی قیادت کے خلاف ایک وسیع سیاسی بحران میں تبدیل ہو گیا۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد امریکا اور برطانیہ نے قطر کے العدید ایئربیس پر عملے کی تعداد کم کر دی، جسے احتیاطی اقدام قرار دیا گیا۔ ایران نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کیں جبکہ متعدد عالمی ایئرلائنز نے پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے۔ برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر کے اسے ریموٹ بنیادوں پر چلانے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران مظاہرین کو پھانسی دیتا ہے تو امریکا سخت اقدام کرے گا، جب ایک 26 سالہ نوجوان عرفان سلطانی کو سزائے موت دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد میں ایرانی سرکاری میڈیا نے ان خبروں کی تردید کی، تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں کیس سے متعلق کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مظاہرین کو پھانسی دینا ناممکن ہے اور امریکی صدر کو ماضی کی غلطیاں دہرانے سے خبردار کیا، جس سے ان کی مراد جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے تھے۔
ادھر امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں اعلیٰ سیاسی اور سیکیورٹی حکام کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ پابندیوں کی زد میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی بھی شامل ہیں، جو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ اقدامات انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار عناصر کو جوابدہ بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ پابندیوں کے تحت امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور امریکی شہریوں کے لیے ان افراد سے کاروبار کرنا غیرقانونی ہو گا۔
اگرچہ ایران پہلے ہی سخت پابندیوں کی زد میں ہے، تاہم نئی پابندیاں امریکا کی جانب سے دباؤ میں اضافے کا واضح اشارہ ہیں۔ ایرانی حکومت مظاہروں کو امریکا اور اسرائیل کی پشت پناہی سے ہونے والی بدامنی قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ جھڑپوں میں 100 سے زائد سیکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔
امریکا نے ایران کی تیل برآمدات کو نشانہ بنانے کے لیے 18 کمپنیوں اور افراد پر مزید معاشی پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔


