پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار

0
19

ویب ڈیسک (ایم این این) – پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے تقریباً ایک سال پر محیط مذاکرات کے بعد سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کی تصدیق وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے بدھ کے روز کی۔

یہ تصدیق ترک وزیر خارجہ کے اسی روز دیے گئے بیان کے بعد سامنے آئی۔ رضا حیات ہراج نے رائٹرز سے گفتگو میں واضح کیا کہ یہ مجوزہ سہ فریقی معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس طے پانے والے دوطرفہ دفاعی معاہدے سے الگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مسودہ تینوں ممالک کے پاس موجود ہے تاہم حتمی شکل دینے کے لیے باہمی اتفاق رائے ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہ مسودہ گزشتہ دس ماہ سے زیر غور ہے۔

ادھر استنبول میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ حاکان فدان نے کہا کہ تینوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے، تاہم تاحال کسی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے۔ انہوں نے خطے میں وسیع تر تعاون اور اعتماد سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد کے باعث عدم استحکام، بیرونی مداخلت، جنگیں اور دہشت گردی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

حاکان فدان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کریں تو علاقائی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کے اس وژن کا بھی ذکر کیا جس کے تحت ایک جامع علاقائی پلیٹ فارم کے ذریعے بڑے پیمانے پر تعاون اور استحکام کو فروغ دیا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے بلوم برگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ترکی ستمبر 2025 میں طے پانے والے پاک-سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکی اس معاہدے کو خطے میں سلامتی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کا ذریعہ سمجھتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور نیٹو سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔

بلوم برگ نے انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپا کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب مالی طاقت رکھتا ہے، پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت موجود ہے، جبکہ ترکی کو فوجی تجربہ اور مضبوط دفاعی صنعت حاصل ہے۔

بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا کہ ترکی، چین، سعودی عرب اور آذربائیجان پاکستان کے قریبی اور قابل اعتماد دوست ممالک ہیں، جن کے ساتھ اسٹریٹجک پالیسی کے حوالے سے مضبوط تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں اسٹریٹجک میوچول ڈیفنس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں