ویب ڈیسک (ایم این این)- ڈنمارک کی حمایت میں کئی یورپی ممالک کی افواج جمعرات کو گرین لینڈ پہنچنا جاری رہیں، جبکہ امریکا، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں جزیرے کے مستقبل پر گہرے اختلافات سامنے آئے۔
وائٹ ہاؤس نے ان مذاکرات کو امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول سے متعلق تکنیکی بات چیت قرار دیا، جبکہ ڈنمارک نے انہیں اختلافات حل کرنے کے لیے ورکنگ گروپ کا حصہ بتایا۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارز لوکے راسموسن نے کہا کہ بات چیت میں امریکی سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاہم ڈنمارک کی خودمختاری اور سرخ لکیر کا احترام ضروری ہے۔
مذاکرات سے قبل ڈنمارک نے گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان کیا، جس کے بعد فرانس، جرمنی، برطانیہ، ناروے، سویڈن اور نیدرلینڈز سمیت کئی یورپی ممالک نے علامتی طور پر فوجی دستے بھیجنا شروع کر دیے۔
ان اقدامات کا مقصد یورپی اتحاد کا مظاہرہ اور یہ پیغام دینا تھا کہ نیٹو آرکٹک خطے کی سلامتی کو اجتماعی طور پر یقینی بنا سکتا ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ یورپی فوجی تعیناتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوگی۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام نے وائٹ ہاؤس میں امریکی قیادت سے ملاقات کے بعد کہا کہ اختلافات بدستور موجود ہیں، تاہم اعلیٰ سطح پر بات چیت جاری رہے گی۔
فرانس اور جرمنی نے گرین لینڈ میں فوجی تعیناتی کی تصدیق کی، جبکہ ڈنمارک نے کہا کہ نیٹو ممالک کی افواج باری باری گرین لینڈ میں موجود رہیں گی۔
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے واضح کیا کہ گرین لینڈ نہ فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی امریکا کا حصہ بننا چاہتا ہے، اور اسے واشنگٹن سے کنٹرول ہونا منظور نہیں۔
مقامی شہریوں نے مذاکرات اور یورپی حمایت کا خیرمقدم کیا، تاہم امریکی عزائم پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ روس نے یورپی فوجی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں مغرب کی اشتعال انگیز پالیسی قرار دیا۔
ڈنمارک کے حکام نے کہا کہ ورکنگ گروپ کا قیام مثبت قدم ہے، مگر خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، جبکہ واشنگٹن میں امریکی قانون سازوں سے ملاقاتیں بھی جاری رہیں۔


