غیر قانونی مواد پر پی ٹی اے کی کارروائی، دس لاکھ سے زائد لنکس بلاک

0
14

لاہور (ایم این این)- پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے غیر قانونی اور نامناسب ڈیجیٹل مواد کے پھیلاؤ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کر دیے گئے ہیں۔ یہ انکشاف پی ٹی اے کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ کارروائی کی گئی۔ فیس بک پر تقریباً دو لاکھ انتیس ہزار لنکس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے قریب ایک لاکھ ستانوے ہزار بلاک کر دیے گئے۔ انسٹاگرام پر تینتالیس ہزار کے قریب یو آر ایل چیک کیے گئے، جن میں سے اڑتیس ہزار بلاک ہوئے۔

ٹک ٹاک پر سخت ترین کریک ڈاؤن کیا گیا، جہاں ایک لاکھ چوہتر ہزار سے زائد لنکس کا معائنہ کیا گیا اور ایک لاکھ تریسٹھ ہزار سے زیادہ ویڈیوز بلاک کی گئیں، جو تقریباً چورانوے فیصد بلاکنگ ریٹ بنتا ہے، جو تمام پلیٹ فارمز میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یوٹیوب پر بہتر ہزار سے زائد لنکس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے چونسٹھ ہزار سے زیادہ بلاک کیے گئے۔ ایکس، سابقہ ٹوئٹر، پر ایک لاکھ بارہ ہزار کے قریب لنکس دیکھے گئے اور ستر ہزار آٹھ سو بلاک کیے گئے، جس کا بلاکنگ ریٹ باسٹھ فیصد رہا، جو سب سے کم ہے۔ دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقریباً آٹھ لاکھ اٹھانوے ہزار لنکس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے آٹھ لاکھ اکیانوے ہزار بلاک کیے گئے۔

مجموعی طور پر پی ٹی اے نے چودہ لاکھ سے زائد لنکس اور یو آر ایل بلاک کیے، جن کی وجوہات میں توہین عدالت، فحاشی، مذہب مخالف مواد، پراکسی سے متعلق مواد، نفرت انگیز تقاریر اور ریاست کے خلاف مواد شامل ہیں۔ فحش اور غیر اخلاقی مواد سب سے زیادہ بلاک ہونے والا مواد رہا، جس کے تحت دس لاکھ چھ ہزار سے زائد لنکس بند کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ریاست اور دفاعِ پاکستان کے خلاف مواد پر ایک لاکھ اڑتالیس ہزار لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ مذہب مخالف مواد پر ایک لاکھ نو ہزار سے زائد لنکس ہٹائے گئے۔ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کے باعث چھہتر ہزار لنکس بلاک کیے گئے، جبکہ ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر کم ترین کارروائی کی گئی۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات موجودہ قوانین کے تحت غیر قانونی ڈیجیٹل مواد کے پھیلاؤ کو روکنے اور محفوظ آن لائن ماحول کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں