اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ایک روز کی حفاظتی ضمانت

0
20

اسلام آباد (ایم این این): اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل اور سماجی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی ایک روز کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی، جبکہ عدالت نے کل تک دونوں کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ حکم جسٹس اعظم خان نے جاری کیا، جہاں سینئر وکیل کامران مرتضیٰ ملزمان کی جانب سے پیش ہوئے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو حراست میں نہ لیا جائے۔

اس سے قبل اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت نے متنازع سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منسوخ کر دی تھی۔ عدالت نے بار بار عدم حاضری اور عدالتی کارروائی کے دوران بدنظمی کو فیصلے کی بنیاد بنایا۔

مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں الزام ہے کہ ملزمان نے سوشل میڈیا کے ذریعے لسانی تقسیم کو ہوا دی اور مسلح افواج کو ملک میں دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی۔

سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی، جبکہ ریاست کی جانب سے پراسیکیوٹر رانا عثمان پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر دونوں ملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر معاون وکیل نے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دی۔

بعد ازاں اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری نعیم گجر نے سماعت پیر تک ملتوی کرنے کی استدعا کی اور یقین دہانی کرائی کہ مزید التوا نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایمان مزاری علیل ہیں تاہم وہ خود جرح کرنا چاہتی ہیں۔

پراسیکیوشن نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے فوری طور پر گواہ پر جرح شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پراسیکیوٹر اور بار ایسوسی ایشن کے صدر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس سے عدالت میں بدنظمی پھیل گئی اور جج کو عارضی وقفہ دینا پڑا۔

کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر بھی دونوں ملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے ضمانت منسوخ کرتے ہوئے ان کی گرفتاری اور پیشی کا حکم دے دیا، جرح کا حق ختم کر دیا اور دفعہ 342 کے تحت بیانات ریکارڈ کرنے کی ہدایت جاری کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں