اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے پہلی تقریر، محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی کو مضبوط بنانے کیلئے غیر مشروط حمایت کا اعلان

0
18

اسلام آباد (ایم این این): قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنی پہلی تقریر میں تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے پیر کے روز ایوان زیریں کو مضبوط بنانے کیلئے غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔

تقریباً تیس منٹ پر مشتمل خطاب میں، جس کے بعض حصے قومی اسمبلی کی لائیو نشریات کے دوران سنسر بھی ہوئے، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قومی اسمبلی کو پاکستان کی تمام پالیسیوں کا مرکز ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی اے پی قوم سے یہ وعدہ کرتی ہے کہ اگر ایوان کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی تو اس میں بھرپور اور غیر مشروط تعاون فراہم کیا جائے گا، کیونکہ مضبوط پارلیمنٹ کے بغیر جمہوریت کا تصور ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ غلطیاں دنیا میں ہر جگہ ہوتی ہیں، مگر ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور گالی گلوچ مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے ارکان کو سوچ بچار، تحمل اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوامی فلاح اور بہبود سے متعلق ہر کام کی حمایت ہونی چاہیے اور اس حوالے سے ان کی جماعت کے ووٹ ہمیشہ عوام کے حق میں ہوں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ ملکی اور خارجہ پالیسیاں پارلیمنٹ سے تشکیل پانی چاہئیں اور ارکان سے اپیل کی کہ ایوان کے اندر اور باہر ایک دوسرے کے ساتھ احترام کا رویہ اپنائیں اور ایسی زبان استعمال نہ کریں جو وہ اپنے گھروں میں نہیں بول سکتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی اپنا ووٹ نہیں بیچا اور نہ ہی اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔

پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور جماعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر وہ شکر گزار ہیں، جبکہ اسپیکر ایاز صادق کا بھی تقرری کے بعد شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پانچ ماہ تک اپوزیشن لیڈر کے بغیر ایوان کا چلنا انتہائی غلط تھا اور اپوزیشن بینچز ہی وہ اصل نمائندے ہیں جنہوں نے انہیں اس منصب پر منتخب کیا۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاش ان کا استعمال قومی اسمبلی کو مضبوط بنانے کیلئے کیا جاتا، تاہم اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی۔

انہوں نے سیاسی کارکنوں، بالخصوص جیلوں میں قید بزرگ خواتین کے خلاف مقدمات واپس لینے کی قرارداد لانے کی تجویز دی اور کہا کہ اگر ایوان متفقہ طور پر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرے تو ملکی سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کم از کم عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیاں تو ختم کی جائیں، اور اپوزیشن ہر مثبت اقدام میں تعاون کیلئے تیار ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے واقعات نے ملک میں سیاسی کشیدگی کو بڑھایا، اور اگر دباؤ کم کیا جائے تو مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس، جنہیں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا ہے، کے حوالے سے کہا کہ مثبت اقدامات میں تعاون ہوگا لیکن منفی سرگرمیوں میں نہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں