برلن فلم فیسٹیول کے اعلیٰ ترین اعزاز کے لیے 22 عالمی فلمیں مقابلے میں شامل

0
18

برلن (ایم این این) — عمر رسیدگی پر مبنی جولیئٹ بینوش کی فلم سے لے کر جاپانی اینی میشن اور جرمن اداکارہ سینڈرا ہوئلر کی تاریخی بلیک اینڈ وائٹ ڈراما فلم سمیت 22 فلمیں آئندہ ماہ برلن فلم فیسٹیول کے اعلیٰ ترین اعزاز کے لیے مقابلے میں شامل ہوں گی۔

برلن فلم فیسٹیول کا 76 واں ایڈیشن 12 سے 22 فروری تک منعقد ہوگا، جس میں گزشتہ سال کی طرح بڑی تعداد میں ناظرین کی شرکت متوقع ہے۔

مقابلے کے حصے میں 28 ممالک کی فلمیں شامل کی گئی ہیں، جن میں یوشی توشی شینومیا کی اینی میشن فلم “اے نیو ڈان” اور اینا فچ اور بینکر وائٹ کی امریکی دستاویزی فلم “یو او لوو از اے ریبیلیئس برڈ” بھی شامل ہے، جو خواتین کی دوستی کے موضوع پر مبنی ہے۔

فیسٹیول میں خاندانی کہانیوں کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ ہیری پوٹر سے شہرت پانے والے روپرٹ گرنٹ ڈارک فیری ٹیل فلم “نائٹ بورن” میں جلوہ گر ہوں گے، جبکہ چیننگ ٹیٹم کی فلم “جوزفین” ایک نفسیاتی تھرلر ہے، جس میں ایک خاندان کے تحفظ کا احساس ٹوٹ جاتا ہے۔ ایمی ایڈمز کی فلم “ایٹ دی سی” ایک ایسی خاتون کی کہانی بیان کرتی ہے جو بحالی کے بعد گھر لوٹتی ہے۔

فرانسیسی اداکارہ جولیئٹ بینوش فلم “کوئین ایٹ سی” میں اداکاری کریں گی، جبکہ آسکر ایوارڈ یافتہ فلموں “اینٹومی آف اے فال” اور “دی زون آف انٹرسٹ” میں کام کرنے والی سینڈرا ہوئلر فلم “روز” میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، جو تیس سالہ جنگ کے اختتام کے پس منظر میں بنی ہے۔

اس سال 18 سے 25 سال کے نوجوانوں کے لیے ایک نیا پروگرام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس میں ٹکٹ کی قیمت صرف چھ یورو رکھی گئی ہے۔

فیسٹیول ڈائریکٹر ٹریشیا ٹٹل نے کہا کہ سنیما کے مستقبل کے لیے ایک جدوجہد جاری ہے اور اس فیسٹیول کا مقصد فلمی ثقافت کی وسعت کو برقرار رکھنا ہے۔

جرمن دارالحکومت میں کئی عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی آمد متوقع ہے، جن میں آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ مشیل یوہ بھی شامل ہیں، جنہیں فلمی خدمات کے اعتراف میں افتتاحی تقریب میں اعزازی گولڈن بیئر ایوارڈ دیا جائے گا۔

فیسٹیول کا افتتاح افغان ہدایت کارہ شہر بانو سعادت کی فلم “نو گڈ مین” سے ہوگا، جو افغانستان کے پدرشاہی معاشرتی ڈھانچے کو اجاگر کرتی ہے۔ فیسٹیول انتظامیہ کے مطابق یہ فلم انسانیت اور اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتی ہے۔

معروف جرمن ہدایت کار وِم وینڈرز، جو 80 برس کے ہیں، بین الاقوامی جیوری کی سربراہی کریں گے جو گولڈن بیئر ایوارڈ کا فیصلہ کرے گی۔ فیسٹیول منتظمین نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ وِم وینڈرز پہلی بار اس منصب پر فائز ہوں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں