ڈاووس (ایم این این) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ یورپی ممالک پر بھاری تجارتی محصولات عائد کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہو گئے ہیں، یہ فیصلہ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ساتھ گرین لینڈ اور آرکٹک خطے سے متعلق بات چیت کے بعد کیا گیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ اور پورے آرکٹک خطے کے حوالے سے مستقبل کے ایک فریم ورک پر اتفاق ہو گیا ہے، جس کے بعد ٹیرف نافذ نہیں کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ انتظام امریکا اور نیٹو کے تمام رکن ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، تاہم انہوں نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹرمپ گزشتہ کئی ہفتوں سے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی بات کر رہے تھے، جو ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے۔ اس موقف پر یورپ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ گرین لینڈ منصوبے کی مخالفت پر ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، ناروے، سویڈن، نیدرلینڈز اور برطانیہ پر یکم فروری سے 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے ڈنمارک پر الزام لگایا تھا کہ وہ آرکٹک میں گرین لینڈ کے سمندری حدود کے تحفظ میں ناکام رہا ہے، اور مؤقف اختیار کیا کہ امریکی قومی سلامتی کے لیے اس جزیرے پر کنٹرول ضروری ہے۔ تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا، جس کے بعد “گرین لینڈ سے دور رہو” کے نعرے کے تحت احتجاج بھی ہوئے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹیرف دھمکیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یورپ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے متحد ردعمل دے گا۔
ٹرمپ کا یہ یوٹرن اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جو انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں دیا تھا، جہاں انہوں نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے طاقت استعمال نہیں کرے گا بلکہ فوری مذاکرات چاہتا ہے۔
سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالمر اسٹینرگارڈ نے ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی اتحاد اور اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ کوششوں کا اثر ظاہر ہو گیا ہے، اور یورپ دباؤ یا بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا۔


