گل پلازہ آتشزدگی: جھلسی ہوئی دکان سے درجنوں لاشوں کی برآمدگی، ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ

0
11

کراچی (ایم این این) — کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد میں نمایاں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جب بدھ کے روز ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے ایک جلی ہوئی دکان سے کم از کم 30 لاشیں برآمد کیں۔

کراچی ساؤتھ کے ڈی آئی جی سید اسد رضا کے مطابق یہ لاشیں میزانین فلور پر واقع ’’دبئی کراکری‘‘ نامی دکان سے نکالی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مزید تین لاشیں ملنے کے بعد مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی ہلاکتیں 60 سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ تاہم حتمی تعداد کا تعین ڈی این اے رپورٹس کے بعد ہی ہو سکے گا۔

ڈی آئی جی کے مطابق لاپتا افراد کے لواحقین اور دکانداروں نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دکان کے اندر بڑی تعداد میں لوگ موجود ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرین نے یہ سمجھا کہ آگ پر قابو پا لیا جائے گا، مگر دھوئیں کے باعث دم گھٹنے سے جانبر نہ ہو سکے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ تاحال کسی تخریبی کارروائی کے شواہد نہیں ملے۔ مقامی افراد کے مطابق دکان میں شادیوں کے سیزن کی سیل جاری تھی، جس کے باعث وہ معمول سے زیادہ دیر تک کھلی رہی۔

یہ آگ ہفتے کی رات ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگی تھی۔ اگرچہ اتوار کو آگ بجھا دی گئی، تاہم پیر کو دوبارہ شعلے بھڑک اٹھے۔ آگ کے باعث عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے۔

سندھ حکومت کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی نے موقع کا دورہ کیا، جبکہ کراچی کمشنر نے کہا کہ تحقیقات تمام پہلوؤں سے کی جائیں گی۔ حکام نے فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کی بھی نشاندہی کی۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ ملحقہ رمپا پلازہ کی عمارت بھی شدید گرمی کے باعث متاثر ہوئی ہے۔

دریں اثنا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے واضح کیا کہ گل پلازہ کے تمام ریکارڈ موجود ہیں اور ریکارڈ غائب ہونے کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا، تاہم یہ بھی سامنے آیا کہ آگ لگنے کے وقت زیادہ تر ایمرجنسی راستے بند تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں