کراچی فائرنگ کیس میں صحافی کی گرفتاری پر سندھ کے وزیر داخلہ کا انکوائری کا حکم

0
13

کراچی (ایم این این): سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے جمعرات کو ماڈل کالونی پولیس کی جانب سے صحافی شہاب سلمان کی گرفتاری کے معاملے پر انکوائری کا حکم دے دیا۔

صحافی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 34، 324 اور 337A(i) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جن میں مشترکہ نیت، اقدامِ قتل اور سر پر چوٹ لگانے کے الزامات شامل ہیں۔

مدعی، جو ایک کیبل نیٹ ورک چلاتا ہے، نے الزام عائد کیا کہ وہ بدھ کی رات اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں چائے پی رہا تھا کہ شہاب سلمان اور تین دیگر افراد نے پستول نکال کر فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اسے ران میں گولی لگی۔

مدعی نے یہ الزام بھی لگایا کہ صحافی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلا رہا تھا تاکہ اسے بلیک میل کیا جا سکے۔

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کورنگی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے تفصیلات طلب کیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے ہدایت کی کہ تحقیقات میں میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جائے اور تمام میڈیا اداروں کو اعتماد میں لیا جائے۔

انہوں نے صحافی برادری کو یقین دلایا کہ پولیس تفتیش کے دوران مکمل شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جائے گا۔

ادھر پولیس کے بیان کے مطابق شاہ فیصل کالونی کے ایس پی اور ایس پی انویسٹی گیشن کو اس معاملے کی انکوائری افسران مقرر کیا گیا ہے۔ کورنگی ایس ایس پی نے دونوں افسران کو ہدایت دی کہ تحقیقات میرٹ پر کی جائیں اور صحافی کی اہلیہ کی جانب سے دی گئی درخواست کو بھی انکوائری کا حصہ بنایا جائے۔

شہاب سلمان کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ کچھ عناصر ماڈل کالونی میں بس ٹرمینل کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، جسے ان کے شوہر نے اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے بے نقاب کیا۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے ان کے شوہر کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بدھ کی رات چار موٹر سائیکلوں پر سوار افراد ریسٹورنٹ آئے اور ان کے شوہر کو دھمکایا، جس پر انہوں نے اپنے لائسنس یافتہ پستول سے دفاعی فائرنگ کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے پہلے بھی پولیس سے تحفظ مانگا تھا لیکن فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ ملزمان کو سیاسی عناصر کی حمایت حاصل ہونے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس حراست کے دوران ان کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس نے صحافی کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔

کے یو جے کے صدر اور سیکریٹری نے مشترکہ بیان میں کہا کہ حملہ آوروں کے بجائے دفاع میں فائرنگ کرنے والے شخص کی گرفتاری تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہاب سلمان کو کئی دنوں سے اپنی رپورٹنگ کی وجہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور واقعے کے بعد وہ خود مدد کے لیے پولیس کے پاس گئے تھے، لیکن ان کی مدد نہیں کی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ پولیس نے نہ صرف ان کے خلاف مقدمہ درج کیا بلکہ ان کی اہلیہ کی درخواست بھی وصول کرنے سے انکار کر دیا۔

کے یو جے نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ پولیس حکام معاملے کا نوٹس لیں، صحافی کو انصاف فراہم کیا جائے اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

کراچی پریس کلب نے بھی شہاب سلمان کی فوری رہائی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اپنے بیان میں کے پی سی کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور ایگزیکٹو کونسل نے صحافی پر مبینہ حملے اور اس کے بعد گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شہاب سلمان ایک ذمہ دار اور پیشہ ور صحافی ہیں اور اگر انہیں دھمکیاں دی جائیں یا نشانہ بنایا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ان کا تحفظ اور اصل ملزمان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

کے پی سی نے کہا کہ خود دفاع کی بنیاد پر ایک سینئر صحافی کی گرفتاری نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہے، جبکہ متاثرہ شخص کو ہی ملزم بنا دینا ایک خطرناک تاثر قائم کرتا ہے۔ پریس کلب نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے کسی قسم کی ہراسانی یا انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں