اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے اسے ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف ان 19 ممالک کے رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کے قیام کے چارٹر پر دستخط کیے۔ اس فیصلے پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بورڈ آف پیس کا تصور گزشتہ برس ستمبر میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے منصوبے کے تحت پیش کیا گیا تھا۔ چارٹر کے مطابق اس فورم کا دائرہ کار صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ عالمی تنازعات کے حل تک پھیلا ہوا ہے۔
یہ معاملہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زیر بحث آیا، جس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی۔
اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر شمولیت کو سفارتی کامیابی کے طور پر منانا چاہیے۔ انہوں نے 1998 کے ایٹمی دھماکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری کا دفاع کیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کو کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ کشیدگی کے دوران حکومت اور افواج نے ثابت کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
فلسطین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقاریر کرنا آسان ہے، مگر مسلم ممالک نے عملی طور پر خونریزی روکنے کے لیے اجتماعی اقدام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اس فورم میں شامل نہ ہوتا تو یہی اپوزیشن ملک کو عالمی سطح پر تنہا قرار دیتی۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا اخلاقی مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور حکومت اسرائیل کو جارح ریاست سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا حق ہے اور پاکستان اس مؤقف کی ماضی میں بھی حمایت کرتا رہا ہے اور آج بھی کرتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں بمباری کے رکنے میں مسلم ممالک کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور جنگ بندی سے فلسطینی عوام کو نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔
اپوزیشن کا اعتراض
اس سے قبل قائد حزب اختلاف سینیٹ راجا ناصر عباس نے حکومت پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ کرنے پر تنقید کی۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اس فیصلے کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔
جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سینیٹ میں التواء کی تحریک جمع کرائی اور کہا کہ یہ اقدام قائداعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے خلاف ہے۔
گل پلازہ سانحہ پر قرارداد
مشترکہ اجلاس میں کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں کم از کم 67 افراد جاں بحق ہوئے۔
قرارداد میں سندھ حکومت سے نظامی اصلاحات، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ، شہر بھر میں فائر سیفٹی آڈٹ، فائر بریگیڈ کی سہولیات میں اضافہ اور وفاقی حکومت سے تعاون کا مطالبہ کیا گیا۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کراچی کے لیے وفاقی تعاون پر زور دیا اور سانحے پر سیاست سے گریز کی اپیل کی۔
تین بل منظور
اجلاس میں دانش اسکولز اتھارٹی بل 2025، انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 اور گھریلو تشدد سے تحفظ کا بل 2025 بھی منظور کیے گئے۔
ایوان میں اپوزیشن کے احتجاج کے بعد اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
محمود خان اچکزئی کا ایمان مزاری کی گرفتاری پر ردعمل
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔


