افغانستان سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر برطانوی وزیراعظم کا سخت ردعمل، معافی کا مطالبہ

0
10

نیوز ڈیسک (ایم این این)- برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عندیہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو افغانستان جنگ سے متعلق اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے، جس میں انہوں نے یورپی افواج کے کردار کو کم تر ظاہر کیا تھا۔

اسٹارمر نے کہا کہ ٹرمپ کے وہ ریمارکس، جن میں نیٹو اتحادیوں پر افغانستان میں محاذ سے دور رہنے کا الزام لگایا گیا، نہ صرف توہین آمیز بلکہ انتہائی افسوسناک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود ایسی زبان استعمال کرتے تو فوری طور پر معذرت کرتے۔

امریکی صدر کے ان بیانات پر یورپ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گرین لینڈ اور تجارتی محصولات پر امریکا اور یورپی ممالک کے تعلقات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

برطانوی وزیراعظم نے افغانستان میں جانیں قربان کرنے والے 457 برطانوی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد برطانوی اہلکار اس جنگ میں شریک رہے، جو امریکا کے بعد سب سے بڑا فوجی تعاون تھا۔

نائن الیون حملوں کے بعد نیٹو کا اجتماعی دفاعی آرٹیکل 5 پہلی مرتبہ نافذ ہوا، جس کے تحت درجنوں ممالک نے افغانستان میں افواج تعینات کیں۔ کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور ڈنمارک سمیت کئی ممالک کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ٹرمپ کے بیانات پر نیدرلینڈز اور پولینڈ کے وزرائے خارجہ و دفاع نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے نیٹو سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔

بعد ازاں برطانوی شہزادہ ہیری نے بھی معاملے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان جنگ میں فوجیوں کی قربانیوں کو سچائی اور احترام کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں