تہران (ایم این این): ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کا فوجی حملہ مکمل جنگ کے مترادف ہوگا، ایسے وقت میں جب امریکی بحری بیڑہ اور دیگر فوجی وسائل آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ پہنچنے والے ہیں۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فوجی سرگرمیوں کے باعث ایران میں ہائی الرٹ نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو امید ہے یہ فوجی نقل و حرکت براہ راست تصادم کے لیے نہیں، تاہم ہر ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل تیاری موجود ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ محدود ہو یا نام نہاد سرجیکل حملہ، ایران ہر قسم کے حملے کو مکمل جنگ سمجھے گا اور سخت ترین جواب دے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہیں آئے گی۔ انہوں نے ایران کو مظاہرین کے قتل اور جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے خلاف بھی خبردار کیا۔
ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی تو جواب دیا جائے گا، تاہم انہوں نے ردعمل کی نوعیت بتانے سے گریز کیا۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی خطرات کا سامنا کرنے والا ملک اپنے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
ماضی میں امریکا کشیدگی کے دوران مشرق وسطیٰ میں اضافی فوجی دستے تعینات کرتا رہا ہے، جنہیں عموماً دفاعی اقدامات قرار دیا جاتا تھا۔ تاہم گزشتہ سال ایران کے جوہری پروگرام پر حملوں سے قبل بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کی گئی تھی۔
سرخی: کشیدگی کے باعث یورپی ایئرلائنز کی مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں معطل
پیرس/ایمسٹرڈیم (ایم این این):
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایئر فرانس اور کے ایل ایم نے مشرق وسطیٰ کے کئی شہروں کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
ایئر فرانس نے اعلان کیا کہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے باعث دبئی کے لیے پروازیں وقتی طور پر روک دی گئی ہیں۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم نے بھی تل ابیب، دبئی، دمام اور ریاض کے لیے پروازیں تاحکم ثانی معطل کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ عراق، ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جیسا کہ ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا۔
کے ایل ایم نے معطلی کی وجوہات واضح نہیں کیں، تاہم کہا کہ وہ ڈچ حکام سے رابطے میں ہے۔
صدر ٹرمپ ایران میں حالیہ احتجاجی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن پر بارہا فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ اگرچہ گزشتہ ہفتے صورتحال میں کچھ نرمی دیکھی گئی جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ایران نے مظاہرین کی پھانسی روک دی ہے، تاہم ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجی تیاریاں بدستور جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہمارے کئی بحری جہاز اس سمت جا رہے ہیں، احتیاطاً۔ ہمارے پاس ایران کی جانب بڑھنے والی ایک بڑی فوجی طاقت موجود ہے۔”


