اسلام آباد (ایم این این): ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ہفتے کے روز وکیل اور سماجی کارکن ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں مختلف الزامات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کی دفعات 9، 10 اور 26-اے کے تحت اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
عدالت نے پیکا ایکٹ کی دفعہ 9 کے تحت دونوں کو پانچ پانچ سال قیدِ سخت اور پانچ پانچ ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک سال قید بھگتنا ہوگی۔
دفعہ 10 کے تحت دونوں کو دس دس سال قیدِ سخت اور تیس تیس ملین روپے جرمانے کی سزا دی گئی، جبکہ عدم ادائیگی پر مزید دو سال قید کی سزا ہوگی۔
اسی طرح دفعہ 26-اے کے تحت دونوں کو دو دو سال قیدِ سخت اور ایک ایک ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو جمعہ کے روز ایک الگ مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ پہلے ہی اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر تھے۔
اس سے قبل ہفتے کو دونوں ملزمان ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، تاہم عدالتی کارروائی اس وقت متاثر ہوئی جب انہوں نے سماعت کا بائیکاٹ کر دیا، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
سماعت کے آغاز پر عدالت نے جرح کے لیے ملزمان کی پیشی سے متعلق سابقہ احکامات پر عملدرآمد طلب کیا اور اسے اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے تحت آخری موقع قرار دیا۔
پولیس نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ پیش کی کہ جیل سے عدالت لانے میں پانچ سے چھ گھنٹے لگیں گے، جس پر عدالت نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی کی اجازت دے دی۔
اڈیالہ جیل میں انٹرنیٹ کی خرابی سمیت تکنیکی مسائل کے باعث سماعت میں تاخیر ہوئی، تاہم وقفے کے بعد دونوں ملزمان آن لائن عدالت میں پیش ہوئے۔
جرح شروع کرنے کے سوال پر ایمان مزاری نے عدالت میں میڈیا کی موجودگی پر اعتراض کیا اور الزام لگایا کہ انہیں اور ان کے شوہر کو حراست میں بدسلوکی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں کھانا اور پانی فراہم نہیں کیا جا رہا۔
ایمان مزاری نے جج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی ذمہ داری عدالت پر عائد ہوتی ہے، جس کے بعد انہوں نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
عدالت نے عملے کو ہدایت کی کہ مکمل کارروائی کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی گرفتاری اور سزا پر انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاست دانوں اور صحافیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قانونی تقاضوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان مقدمات کو انسانی حقوق کی سرگرمیوں اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی ان کارروائیوں کو ہراساں کرنے اور اختلاف رائے کو خاموش کرانے کا ذریعہ قرار دیا۔
یہ مقدمہ 12 اگست 2025 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں درج شکایت سے شروع ہوا، جس میں دونوں پر 30 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی۔
عدالت نے 16 جنوری کو بار بار عدم حاضری پر عبوری ضمانت منسوخ کرتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے، جنہیں بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
این سی سی آئی اے کے مطابق ایمان مزاری پر ریاست مخالف اور کالعدم تنظیموں سے ہم آہنگ بیانیہ پھیلانے کا الزام ہے، جبکہ ہادی چٹھہ پر ان پوسٹس کو دوبارہ شیئر کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ دونوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے معاملات کا الزام سیکیورٹی فورسز پر عائد کیا اور مسلح افواج کو کالعدم تنظیموں کے خلاف غیر مؤثر ظاہر کیا۔
اس ہفتے ایک اور مقدمہ بھی سامنے آیا جو جولائی 2025 میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج سے متعلق تھا، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دونوں کو قبل از گرفتاری ضمانت دی۔
علاوہ ازیں، جمعرات کو انسداد دہشت گردی عدالت نے ستمبر 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر جھگڑے سے متعلق مقدمے میں دونوں کی قبل از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی، اسی مقدمے میں انہیں جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا۔


