اسلام آباد (ایم این این): انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس)، اسلام آباد نے اپنے سینٹرل ایشیا پروگرام برائے علاقائی تعاون و رابطہ کاری کے تحت پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعاون کے لیے ایکشن پلان پیش کر دیا ہے۔ یہ اقدام قازق صدر قاسم جومارت توقایوف کے فروری 2026 میں متوقع پہلے سرکاری دورۂ پاکستان سے قبل کیا گیا۔
“آستانہ اور اسلام آباد کے درمیان تعاون کے ایکشن پلان کو سمجھنا” کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب میں سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی، جہاں دوطرفہ تعاون کے فریم ورک کا جائزہ لیا گیا اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر غور کیا گیا۔
تقریب سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے آئی آر ایس کے صدر سفیر جوہر سلیم نے قازقستان کے سفیر یرزھان کسٹافن کا خیرمقدم کیا اور صدر توقایوف کے دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات اور مشترکہ ثقافتی ورثہ موجود ہے، جنہیں عملی اور نتیجہ خیز تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ دورہ دوطرفہ تعاون، ادارہ جاتی روابط اور علاقائی سفارتکاری کو فروغ دینے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
کلیدی خطاب میں سفیر یرزھان کسٹافن نے دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پاکستان 1991 میں قازقستان کی آزادی کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے ابتدائی اعلیٰ سطحی روابط کا ذکر کیا جنہوں نے مضبوط سفارتی تعلقات کی بنیاد رکھی۔
قازق سفیر نے علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کو اپنے ملک کی ترجیح قرار دیتے ہوئے تجارت، انفراسٹرکچر اور بزنس ٹو بزنس روابط کو فروغ دینے کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان وسطی ایشیا کو مشرق وسطیٰ، یورپ اور چین سے جوڑنے کے لیے خود کو لینڈ لاکڈ سے لینڈ لنکڈ ملک میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، جس میں قراقرم ہائی وے اور ممکنہ ریلوے روابط اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، مالیاتی شعبہ بشمول اسلامی بینکاری، تعلیم، سیاحت، کھیل اور ثقافت میں تعاون کے وسیع مواقع کی نشاندہی کی اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ علاقائی چیلنجز، سیکیورٹی مسائل، منشیات کی اسمگلنگ اور لسانی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔
سوال و جواب کے سیشن میں ٹرانسپورٹ اور ریلوے رابطہ کاری، علاقائی سلامتی، تجارت، دفاعی تعاون اور نوجوانوں کے تبادلوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ شرکاء نے علاقائی امن اور اقتصادی و ثقافتی روابط کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اختتامی کلمات میں سفیر جوہر سلیم نے پاکستان–قازقستان تعلقات کے مستقبل پر اعتماد کا اظہار کیا اور سینٹرل ایشیا پروگرام کے ذریعے علاقائی آگاہی کے فروغ کے لیے آئی آر ایس کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے آذربائیجان کی وسطی ایشیائی ترقیاتی فریم ورک میں شمولیت کا خیرمقدم کیا اور ادارے کے نصب العین “اپنے ہمسایوں کو جانو” کو دہراتے ہوئے کہا کہ پائیدار دوستی اور تعاون کے لیے مسلسل مکالمہ ناگزیر ہے۔


