کراچی (ایم این این): کراچی پریس کلب کے اطراف پیر کے روز متعدد سڑکوں کی بندش کے باعث وسطی کراچی میں شدید ٹریفک جام دیکھنے میں آیا، جہاں انتظامیہ نے متوقع احتجاج کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کیے۔
اہم شاہراہوں پر کنٹینرز رکھے جانے کے باعث آئی آئی چندریگر روڈ اور اطراف کے علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ ڈاکٹر ضیاءالدین روڈ، زینب مارکیٹ کے قریب، اور آرٹس کونسل اور سندھ اسمبلی کے چوراہوں پر ٹریفک مکمل طور پر معطل رہی، جس سے شہریوں کو گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس جانے والی سڑکیں بھی کسی ممکنہ مظاہرے کو روکنے کے لیے بند کر دی گئیں۔
آرٹس کونسل کے مرکزی چوراہے کے قریب فائر بریگیڈ اور ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس گئیں۔
اگرچہ ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم دوپہر تک بدترین ٹریفک جام برقرار رہا جس سے شہری زندگی شدید متاثر ہوئی۔
دوسری جانب وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزا کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کیا، جس کے باعث پریس کلب جانے والی تمام سڑکیں بند کر دی گئیں۔
زینب مارکیٹ اور آرٹس کونسل آف پاکستان کے قریب واقع چوراہے کے اطراف بھی راستے سیل رہے۔
مرحوم سیاستدان مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کو پریس کلب پہنچنے سے روکے جانے پر انہوں نے کے پی سی چوراہے پر دھرنا دیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں فٹ پاتھ پر احتجاج کی بھی اجازت نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے اور احتجاج میں شرکت کو جرم بنا دیا گیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں صرف ایک ٹوئٹ پر سزا دی گئی، جبکہ ان کے والد کو بھی ماضی میں اسی نوعیت کے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
معروف سماجی کارکن شیما کرمانی بھی کے پی سی چوراہے پر دھرنا دینے والوں میں شامل تھیں۔
وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے کہا کہ کراچی پریس کلب جانے والی تمام سڑکوں پر کنٹینرز رکھ کر اور بسیں کھڑی کر کے راستے بند کیے گئے ہیں، تاکہ صحافیوں، وکلا اور سول سوسائٹی کو احتجاج کے حق سے محروم رکھا جا سکے۔
صحافی سمیر مندھرو نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ پولیس نے کراچی پریس کلب کی جانب جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، صحافی، وکلا اور سول سوسائٹی کے کارکن پیکا ایکٹ اور ایمان مزاری کو دی گئی سزا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
بعد ازاں ٹریفک پولیس کے ایک بیان میں تصدیق کی گئی کہ شام پانچ بجے کے قریب دین محمد وفائی روڈ اور سرور شہید روڈ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کی گئیں، جس کے باعث آئی آئی چندریگر روڈ، شاہین کمپلیکس چوک، ایم آر کیانی چورنگی، ایوانِ صدر روڈ، فوارہ چوک، زینب مارکیٹ اور اطراف کے علاقوں میں ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی۔


