نئی دہلی (ایم این این) – بھارت اور یورپی یونین نے ایک تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے دونوں فریقین نے “تمام معاہدوں کی ماں” قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط مذاکرات کے بعد طے پایا ہے اور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معیشت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے باعث غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
یہ معاہدہ تقریباً دو ارب افراد پر مشتمل منڈی کا احاطہ کرتا ہے، جس کی مجموعی مالیت 27 کھرب ڈالر کے قریب ہے اور جو عالمی مجموعی پیداوار کا تقریباً 25 فیصد بنتی ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیئن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچے، جس سے اس معاہدے کی سیاسی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے عوام کے لیے بڑے مواقع پیدا کرے گا اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا۔ ارسلا فان ڈیر لیئن نے کہا کہ بھارت اور یورپ نے تاریخ رقم کی ہے اور یہ آزاد تجارتی زون دونوں فریقین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
یہ معاہدہ بھارت کا اب تک کا سب سے بڑا اور جامع تجارتی معاہدہ ہے، جس میں اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یورپی یونین کی جانب سے 2023 میں بھارت کو ترجیحی تجارتی سہولت ختم کیے جانے کے بعد، یہ نیا معاہدہ بھارتی برآمدات کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہوگا، خصوصاً ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکلز، اسٹیل اور مشینری کے شعبوں میں۔
معاہدے کے تحت یورپی یونین بھارت کو 144 سروسز کے شعبوں تک رسائی دے گی، جبکہ بھارت یورپی کمپنیوں کو 102 شعبوں میں رسائی فراہم کرے گا، جن میں مالیاتی، بحری اور ٹیلی کمیونی کیشن خدمات شامل ہیں۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس سے نہ صرف بھارت کی صنعت مضبوط ہوگی بلکہ سروسز سیکٹر کو بھی فروغ ملے گا۔
آٹو موبائل سیکٹر اس معاہدے کا سب سے حساس پہلو رہا ہے۔ بھارت نے طویل عرصے تک اپنی گاڑیوں کی صنعت کو تحفظ دیا، تاہم نئے معاہدے کے تحت یورپی گاڑیوں پر ٹیرف مرحلہ وار کم کیے جائیں گے۔ اس کے باوجود کم قیمت گاڑیوں اور الیکٹرک وہیکلز کے لیے حفاظتی اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں تاکہ مقامی صنعت متاثر نہ ہو۔
معاہدے کے نتیجے میں یورپی یونین کی تقریباً 96 فیصد برآمدات پر بھارت میں ٹیرف ختم یا کم ہو جائیں گے، جبکہ بھارت کی 90 فیصد برآمدات پر یورپ میں فوری طور پر ٹیرف ختم کر دیے جائیں گے۔ اس سے سمندری خوراک، ٹیکسٹائل، لیدر، کیمیکلز، جیمز اور جیولری جیسے بھارتی شعبوں کو بڑا فائدہ متوقع ہے۔
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت گزشتہ چند برسوں میں نمایاں طور پر بڑھی ہے، اور دونوں فریقین کا ہدف ہے کہ 2030 تک باہمی تجارت کو 200 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ نہ صرف معاشی بلکہ جغرافیائی سیاست کے لحاظ سے بھی اہم ہے، کیونکہ بھارت اور یورپی یونین دونوں امریکہ پر انحصار کم کرنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی تجارتی نظام میں ایک نئی صف بندی کی علامت ہے، جس میں بھارت اور یورپی یونین زیادہ قریبی شراکت داری کی جانب بڑھ رہے ہیں، اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔


