تیراہ کے متاثرین کے لیے 4 ارب روپے پیکیج صوبائی حکومت نے منظور کیا، فوج کا کوئی کردار نہیں

0
8

اسلام آباد (ایم این این): وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے منگل کو واضح طور پر کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی وادیٔ تیراہ میں کسی فوجی آپریشن کا کوئی منصوبہ نہیں اور وہاں آبادی کی منتقلی ایک پرانا اور معمول کا عمل ہے جو موسم اور جغرافیائی حالات کے باعث ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی اختیار ولی خان بھی موجود تھے، خواجہ آصف نے کہا کہ تیراہ میں کئی برسوں سے کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہوا اور سیکیورٹی فورسز صرف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کر رہی ہیں۔

یہ پریس کانفرنس وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تیراہ سے لوگوں کی منتقلی کے اختیار پر جاری تنازع کے بعد سامنے آئی، جب سینکڑوں افراد نے شدید سردی کے باعث اپنے گھر چھوڑے۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے تقریباً 400 سے 500 عناصر اپنے خاندانوں کے ساتھ تیراہ میں موجود ہیں، جن کے خلاف محدود اور مؤثر انٹیلی جنس کارروائیاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیراہ کے مکینوں کے لیے 4 ارب روپے کا امدادی پیکیج خود خیبر پختونخوا حکومت نے منظور کیا، جو مقامی جرگہ اور صوبائی حکومت کے درمیان طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔ فوج یا وفاقی حکومت نے آبادی خالی کرانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔

خواجہ آصف نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ میں اسپتال، اسکول اور پولیس اسٹیشن تک موجود نہیں اور وہاں سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل فقدان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ میں بھنگ کی کاشت ہزاروں ایکڑ پر ہو رہی ہے جس سے حاصل ہونے والا منافع سیاسی عناصر اور دہشت گرد گروہوں تک پہنچ رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ اس آمدن سے مقامی آبادی کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔

وزیر دفاع کے مطابق صوبائی حکومت اس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے تاکہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ فوج اور ایک فرضی آپریشن پر ڈالا جا سکے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ 1880 کی دہائی کے سرکاری گزٹ میں بھی درج ہے کہ افریدی اور اکاخیل قبائل سردیوں میں نشیبی علاقوں کا رخ کرتے اور گرمیوں میں واپس تیراہ آتے تھے۔

وزیراعظم کے معاون اختیار ولی خان نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کے منظور کردہ 4 ارب روپے میں سے کتنی رقم واقعی متاثرہ خاندانوں تک پہنچی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں