عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش، اپوزیشن کا اہلِ خانہ سے ملاقات کا مطالبہ

0
6

اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ سنگین آنکھوں کی بیماری سے متعلق رپورٹس کے بعد اپوزیشن نے بدھ کے روز مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان کی اہلِ خانہ سے ملاقات کروائی جائے اور ان کی صحت سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان کو گزشتہ ہفتے کے آخر میں سخت سیکیورٹی میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا ایک طبی عمل ہوا، جس کے بعد انہیں دوبارہ جیل واپس لے جایا گیا۔

تاہم اس تمام عمل کے دوران نہ تو اہلِ خانہ کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی بیماری کی نوعیت واضح کی گئی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان نے کہا کہ عمران خان کو علاج کے لیے منتقل کرنا اور پھر بغیر اطلاع واپس جیل لے جانا نہایت تشویشناک عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تک یہ نہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو کون سی بیماری لاحق ہے، کس ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور انہیں دوبارہ جیل کیوں منتقل کیا گیا۔

گوہر علی خان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا عوام، پارٹی اور اہلِ خانہ میں بے چینی کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اہلِ خانہ سے ملاقات کروائی جائے اور 8 فروری تک کسی صورت ملاقاتوں پر پابندی نہ لگائی جائے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین رہنما اور سابق وزیر اعظم ہیں، جن کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر 8 فروری 2024 کے انتخابات کے نتائج تسلیم کر لیے جاتے تو ملک سیاسی بحران سے نکل سکتا تھا۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل میں تنہائی میں رکھنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

ادھر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں نے ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو فوری اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

خط میں کہا گیا کہ عمران خان کو آنکھوں کی ایسی بیماری لاحق ہے جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ذاتی طور پر مداخلت کی اپیل بھی کی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں