خیبر/اسلام آباد (ایم این این): وادی تیراہ میں جاری سکیورٹی آپریشن اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث مقامی کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق موجودہ سیزن کی پوست کی فصل مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے اور آئندہ سال کاشت نہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق برفباری کے دوران فصل سے حاصل شدہ مواد کو بنڈلز کی صورت میں محفوظ کر کے برف سے ڈھکے مقامات پر رکھا جاتا ہے، تاہم اچانک نقل مکانی اور سخت نگرانی کے باعث نہ تو ان ذخائر کی حفاظت ممکن رہی اور نہ ہی برف ہٹنے کے بعد کے مراحل بروقت مکمل کیے جا سکے، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں محفوظ کیا گیا مواد ضائع ہو گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پوست کی کاشت سے وابستہ پورا نظام متاثر ہو چکا ہے۔ کاشتکاروں کی عدم موجودگی، راستوں کی بندش اور سپلائی چین میں تعطل کے باعث نہ صرف موجودہ فصل ختم ہو گئی بلکہ آئندہ سیزن کی تیاری بھی ممکن نہ رہی۔ اگر حالات معمول پر نہ آئے تو آنے والے سال میں وادی تیراہ میں پوست کی کاشت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
دوسری جانب استعمال کرنے والوں اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق رسد میں کمی کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور چرس کی قیمت میں فی کلو 50 ہزار پاکستانی روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگر قلت برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
مجموعی طور پر وادی تیراہ میں آپریشن اور نقل مکانی نے غیرقانونی فصلوں کی کاشت، ذخیرہ اور ترسیل سے جڑے پورے نظام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جس کے اثرات مقامی سطح سے نکل کر مارکیٹ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔


