گُل پلازہ آتشزدگی کی عدالتی تحقیقات کا اعلان، غفلت پر متعدد افسران معطل

0
7

کراچی (ایم این این): سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے گُل پلازہ میں ہونے والی ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھا جا رہا ہے، جس میں درخواست کی جائے گی کہ ایک حاضر سروس جج کو مقرر کیا جائے جو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داری کا تعین کرے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں قائم کابینہ سب کمیٹی نے کیا، جس میں ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ضیاء الحسن لنجار بھی شامل تھے۔

سب کمیٹی نے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کی رپورٹ کی بنیاد پر دو رکنی ٹیم کی تیار کردہ رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شرجیل میمن کے مطابق وزیراعلیٰ کے ساتھ اجلاس چار سے پانچ گھنٹے جاری رہا، جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیر نے بتایا کہ سول ڈیفنس نے 2023 کے بعد گُل پلازہ سمیت مختلف عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹس تو کیے، تاہم کسی قسم کی مؤثر قانونی یا احتیاطی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اسی غفلت پر سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر اور ساؤتھ ڈسٹرکٹ کے ایڈیشنل کنٹرولر کو معطل کر دیا گیا ہے، کیونکہ وہ بار بار نوٹسز کے باوجود عملدرآمد کرانے میں ناکام رہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ دونوں افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور اگر کسی اعلیٰ افسر کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے بھی معطل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر کے باعث ریسکیو آپریشن متاثر ہوا، جس پر کے ڈبلیو ایس سی کے چیف انجینئر (بلک) اور ہائیڈرنٹس انچارج کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ واقعے کے پہلے ہی دن کے ایم سی کے میونسپل کمشنر افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ شرجیل میمن نے اعتراف کیا کہ کے ایم سی فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے پاس اس نوعیت کے واقعے سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل اور تربیت موجود نہیں تھی، تاہم انہوں نے فائر فائٹرز کی جرات کو سراہتے ہوئے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

وزیر نے بتایا کہ 17 جنوری کو آتشزدگی کے وقت عمارت میں 2 ہزار سے 25 سو افراد موجود تھے، جن میں کارکنان اور خریدار شامل تھے، جبکہ 80 افراد اس واقعے سے متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ریسکیو اداروں کی ضروریات کا جامع جائزہ لیا جائے گا، جس میں آلات، افرادی قوت، تربیت اور انفراسٹرکچر شامل ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ریسکیو 1122، کے ایم سی فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس کو ایک مربوط نظام کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سب کمیٹی نے یہ بھی پایا کہ گُل پلازہ کی انتظامیہ نے تحریری وارننگز کے باوجود فائر فائٹنگ سسٹم نصب نہیں کیے، جبکہ عمارت نے منظور شدہ نقشے کی بھی خلاف ورزی کی، جس سے عوامی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور کے ایم سی کی جانب سے مختلف ادوار میں دی گئی منظوریوں اور لیز میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جن کی تحقیقات اینٹی کرپشن ادارہ کرے گا۔

سوالات کے جواب میں شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کسی سیاسی دباؤ میں نہیں ہے اور واقعے کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں امدادی چیکس تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق آگ ایک پھولوں کی دکان میں بچوں کے ماچس سے کھیلنے کے باعث لگی اور واقعہ حادثہ تھا، جس میں کسی تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ تمام شواہد عدالتی کمیشن کے سامنے رکھے جائیں گے اور ذمہ داروں کا تعین عدالت کے ذریعے کیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں