ایران سے متعلق ٹرمپ کا سخت مؤقف، امریکی فلوٹلا وینزویلا سے بھی بڑا قرار

0
7

ویب ڈیسک (ایم این این) — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ان کا خیال ہے تہران ممکنہ فوجی جھڑپ سے بچنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے اور موجودہ امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب تعینات کیا گیا ہے جو وہ بیڑہ بھی بڑا ہے جو پہلے وینزویلا کے خلاف بھیجا گیا تھا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا، “ہمارے پاس ایک بڑا ناوگان، بیڑہ ہے، جسے آپ فلوٹلا کہیں، جو اس وقت ایران کی جانب جا رہا ہے، وہ بھی وینزویلا سے بھی بڑا ہے۔” انہوں نے اس امکان کا اظہار کیا کہ مذاکرات سے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، “اگر معاہدہ ہو جاتا ہے تو اچھا ہے، اگر نہیں ہوتا تو پھر دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔” جب پوچھا گیا کہ کیا ایران کو نیوکلیئر پروگرام، بیلسٹک میزائل اور دیگر معاملات پر معاہدے کی کوئی آخری تاریخ دی گئی ہے، تو ٹرمپ نے کہا کہ “صرف وہی صحیح طور پر جانتے ہیں،” اور اشارہ دیا کہ یہ بات براہِ راست تہران تک پہنچائی جا چکی ہے۔

ٹرمپ نے مظاہروں کے دوران قیدیوں کے خلاف پھانسیوں کو روکنے کے ایران کے فیصلے کو بھی مذاکرات کے لیے ایران کی خواہش کی علامت بتایا۔ اگرچہ انہوں نے واضح نہیں کیا کہ اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو مزید فوجی کارروائی کی جائے گی یا نہیں، لیکن کہا، “میں کسی بھی فوجی منصوبے کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔”

اسی روز ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن مذاکرات منصفانہ اور مساوی بنیادوں پر ہونے چاہییں اور ایران کی دفاعی صلاحیتوں کے موضوع پر نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کو دباؤ یا جبر کے بغیر ہونا چاہیے۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے علاقے میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا دی ہے، جس پر ایران نے انتباہ کیا ہے کہ کسی بھی حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں