واشنگٹن (ایم این این) — سابق سی این این اینکر ڈان لیمن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن اور ملک بدری مہم کے خلاف منیسوٹا میں چرچ کے اندر ہونے والے احتجاج میں مبینہ کردار پر گرفتار کر لیا گیا ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کے ناقدین کے خلاف جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی تازہ کارروائی ہے۔
ڈان لیمن نے رواں ماہ سینٹ پال کے ایک چرچ میں ہونے والے احتجاج کی لائیو اسٹریمنگ کی تھی، جس کے باعث عبادت میں خلل پڑا۔ یہ احتجاج ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے منیسوٹا کے بڑے شہروں میں ہزاروں مسلح امیگریشن اہلکار تعینات کرنے کے فیصلے کے خلاف کیا گیا تھا۔
وفاقی حکام کے مطابق امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں، جن میں دو امریکی شہری ہلاک بھی ہوئے، ایک واقعہ احتجاج سے قبل اور دوسرا بعد میں پیش آیا۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کے مطابق ڈان لیمن پر شہری حقوق سے محروم کرنے کی سازش اور عبادت گاہوں تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان کی گرفتاری ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز کے اہلکاروں نے لاس اینجلس میں کی، جس کی تصدیق ان کے وکیل ایبے لوول نے کی۔
یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی جب ایک ہفتہ قبل وفاقی مجسٹریٹ جج نے ڈان لیمن کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری سے قبل لیمن کئی دنوں تک ایف بی آئی کی نگرانی میں رہے، تاہم ایف بی آئی نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
ڈان لیمن کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل گزشتہ 30 برس سے صحافت سے وابستہ ہیں اور منیسوٹا میں ان کی سرگرمی آئینی طور پر محفوظ صحافتی عمل کا حصہ تھی۔ انہوں نے اس کارروائی کو آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔
امریکی آئین کی پہلی ترمیم آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے۔
اٹارنی جنرل پام بونڈی کے مطابق اس کیس میں تین دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں مقامی آزاد صحافی جارجیا فورٹ بھی شامل ہیں۔
منیسوٹا میں امیگریشن کریک ڈاؤن پر ہونے والے احتجاج نے صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی بحران کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جبکہ ایک حالیہ سروے کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے اندر بھی اس پالیسی پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ڈان لیمن سی این این میں 17 سال تک خدمات انجام دیتے رہے اور حکومت پر تنقید کے حوالے سے نمایاں پہچان رکھتے تھے۔ انہیں 2023 میں ایک متنازع آن ایئر بیان کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے بعد میں معذرت بھی کی تھی۔
صحافتی تنظیموں اور ماہرین قانون نے ڈان لیمن کی گرفتاری کو آزادی صحافت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کی کارروائیاں عوام کے معلومات تک حق کو متاثر کر سکتی ہیں۔


