ویب ڈیسک (ایم این این) – بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے وضاحت طلب کی، جب پارٹی کے ایک رہنما نے دعویٰ کیا کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے منسوب دستاویزات میں وزیراعظم کا ذکر موجود ہے۔
کانگریس رہنما پون کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ ایپسٹین سے منسوب ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم مودی نے 2017 میں اسرائیل کے دورے سے قبل ان سے “مشورہ” لیا تھا۔ ای میل میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وزیراعظم نے “امریکی صدر کے فائدے کے لیے گایا اور ناچا”، اور آخر میں “IT WORKED!” کے الفاظ درج تھے۔
پون کھیڑا نے اس معاملے کو “قومی شرمندگی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعلیٰ سطح پر فیصلوں، شفافیت اور سفارتی طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم اور ایپسٹین کے درمیان ایک “ناقابلِ وضاحت تعلق” کا تاثر ملتا ہے، جو بھارت کی قومی وقار اور عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم سے وضاحت کا مطالبہ کیا کہ مبینہ طور پر کس نوعیت کا مشورہ لیا گیا، “امریکی صدر کے فائدے” سے کیا مراد تھی، اور “IT WORKED!” کے الفاظ کس تناظر میں استعمال کیے گئے۔
پون کھیڑا کا کہنا تھا کہ یہ ای میل امریکی محکمۂ انصاف کی ویب سائٹ پر موجود دستاویزات کا حصہ ہے اور یہ وزیراعظم کے 4 سے 6 جولائی 2017 کے اسرائیل دورے کے چند دن بعد لکھی گئی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسرائیل کے دورے سے قبل وزیراعظم مودی کی ملاقات اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوئی تھی۔
جیفری ایپسٹین، جو کئی بااثر شخصیات سے تعلقات کے باعث متنازع رہا، 2019 میں نیویارک کی جیل میں وفاقی جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کے دوران خودکشی کر گیا تھا۔
حالیہ برسوں میں اس کا نام متعدد عدالتی دستاویزات اور ریکارڈز میں سامنے آیا ہے، تاہم کسی دستاویز میں کسی فرد کا نام آ جانا بذاتِ خود کسی غلط کام کا ثبوت نہیں ہوتا۔
کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر وضاحت کا مطالبہ جاری رکھے گی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ مواد کی صداقت اور اصل تناظر واضح کیا جائے۔


