کوئٹہ (ایم این این) – وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اتوار کو صوبے بھر میں ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشت گرد مارے گئے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک مختصر وقت میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں حکومتی تحویل میں ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کے روز فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے بلوچستان میں مختلف مقامات پر حملے کیے، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے 92 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ریاست نے بھارت کے مبینہ کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ان گروہوں کو فتنہ الہندوستان قرار دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پولیس، ایف سی اور نیوی کے ایک اہلکار سمیت 17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 31 شہری جاں بحق یا زخمی ہوئے۔ اس سے قبل آئی ایس پی آر نے 15 سکیورٹی اہلکاروں اور 18 شہریوں کی شہادت کی تصدیق کی تھی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان اور کور کمانڈر نے اتوار کو کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے بچوں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔
سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر حملوں سے ایک دن قبل شابان اور پنجگور میں پیشگی کارروائیاں کی گئیں، جہاں تقریباً 40 دہشت گرد مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ شابان کے راستے کوئٹہ پر حملہ کرنا تھا، تاہم فورسز الرٹ رہیں۔
انہوں نے گوادر واقعے کو سب سے دلخراش قرار دیا، جہاں پانچ خواتین اور تین بچے جاں بحق ہوئے۔ پریس کانفرنس میں گوادر کے زخمیوں کے ویڈیو بیانات بھی دکھائے گئے۔
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ دہشت گرد بھارت کی ہدایات پر کام کر رہے ہیں اور بلوچ شناخت کو استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ زون میں داخل ہو کر اہم تنصیبات پر قبضے کی کوششیں ناکام بنا دی گئیں، جبکہ نوشکی کے علاوہ تمام علاقوں کو مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئی شہر دہشت گردوں کے قبضے میں نہیں گیا اور نہ ہی کسی بینک کو لوٹا گیا۔ وزیراعلیٰ نے دہشت گردوں پر بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا۔
سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کو سیاسی مسئلہ قرار دینے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کو قوم پرستی کے نام پر جواز فراہم کرنا دہشت گردوں کی حمایت کے مترادف ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ریاست کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کو “بلوچ دہشت گرد” کہا جاتا ہے، اور کہا کہ دہشت گردی کا کسی قوم یا نسل سے تعلق نہیں۔
دفاعی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں امن بحال ہو چکا ہے اور سکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن کر رہی ہیں۔ انہوں نے نوشکی اور دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناکام بنانے کی تصدیق کی اور بھارتی مداخلت کا الزام عائد کیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گرد خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث کارروائیاں احتیاط سے کی گئیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے جھوٹے اور بعض اوقات اے آئی سے تیار کردہ بیانیے بھی مسترد کیے۔
حالات کے پیش نظر بلوچستان حکومت نے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 کے تحت اجتماعات، جلوسوں، دھرنوں، چہرے ڈھانپنے، اسلحے کی نمائش، ڈبل سواری، کالے شیشوں اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
دہشت گرد حملوں کی امریکا، ایران، فرانس اور یورپی یونین سمیت عالمی برادری نے سخت مذمت کی اور پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔


