وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا اسلام آباد مارچ سے قبل گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان

0
2

خیبر (ایم این این) – وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ صوبے بھر کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے لیے جلد ایک گرینڈ جرگہ بلائیں گے، جس میں اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اعلان خیبر کے جمرود اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ امن جرگے سے خطاب کے دوران کیا گیا، جو وزیراعلیٰ نے گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت کے اس مؤقف کے ردعمل میں بلایا تھا کہ نہ تو مرکز اور نہ ہی فوج نے وادیٔ تیراہ کو خالی کرانے کی کوئی ہدایت دی ہے۔

تیراہ سے انخلا کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جب سیکڑوں خاندان ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے باعث اپنے گھروں سے نکل آئے۔ اگرچہ یہ عمل مقامی عمائدین، صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی مشاورت سے طے پایا تھا، تاہم سرد موسم میں بے گھر خاندانوں کو کھلے آسمان تلے چھوڑے جانے اور بدانتظامی کے باعث معاملہ متنازع بن گیا۔

وفاقی حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ یہ نقل مکانی موسمی اور معمول کا عمل ہے اور تیراہ میں کسی فوجی آپریشن کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے شرکاء سے سوال کیا کہ کیا وہ تیراہ کے عوام پر ہونے والے مظالم، جبری بے دخلی اور حکومت کے مؤقف میں یوٹرن کے خلاف اسلام آباد مارچ میں ان کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ضم شدہ اضلاع کا دورہ کر کے عوام کو اعتماد میں لیں گے اور اس کے بعد گرینڈ جرگہ بلا کر احتجاجی مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرینڈ جرگہ واضح کرے گا کہ خیبر پختونخوا پر حکمرانی کا حق صرف یہاں کے عوام کو حاصل ہے اور اسلام آباد میں بند کمروں میں کیے گئے فیصلے اب قابل قبول نہیں ہوں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عوام کی حمایت حاصل ہو تو دنیا کی کوئی طاقت ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف گورنر راج لگانے، جعلی مقدمات کے ذریعے نااہل کرنے یا سیاسی بیانیہ قبول نہ کرنے کی صورت میں انہیں راستے سے ہٹانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اللہ پر کامل یقین رکھتے ہیں اور بطور قبائلی شخص دہشت گردی اور فوجی آپریشنز کے حوالے سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

تیراہ کے بے گھر خاندانوں کے لیے مختص چار ارب روپے کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ 100 ارب روپے کی منظوری بھی دے سکتے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے ماضی کے متاثرین کے لیے وعدہ کردہ چار لاکھ روپے فی خاندان فراہم نہیں کیے۔ انہوں نے فنڈز کے غلط استعمال میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا عزم ظاہر کیا۔

انہوں نے خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو دوسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے، تاہم وہ عمران خان کے سپاہی کی حیثیت سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے پیر کو اسلام آباد جا کر وزیراعظم سے ملاقات اور صوبے کے بقایا جات کے حصول کی بھی تصدیق کی۔

وزیراعلیٰ نے تیراہ سے متعلق وفاقی مؤقف کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور منفی پروپیگنڈے کو مسترد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی میڈیا میں تیراہ کے عوام کی مشکلات اجاگر ہونے کے بعد وفاقی حکومت نے اپنا مؤقف بدلا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے پر متضاد بیانات سے عوام کا سکیورٹی اداروں پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے صوبے میں غریب اور مستحق افراد کے لیے ایک ریلیف فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا، جس کی رقوم رمضان میں تقسیم کی جائیں گی۔

سہیل آفریدی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

قبل ازیں صوبائی وزیر مینا خان، رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور ارکان صوبائی اسمبلی عبدالغنی اور عدنان قادری نے سخت تقاریر کرتے ہوئے تیراہ کے متاثرین کی مشکلات کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا۔ تاہم تیراہ قبائل کے اس جرگے کے ارکان شریک نہیں ہوئے جنہوں نے صوبائی حکومت اور سکیورٹی حکام کے ساتھ انخلا پر مذاکرات کیے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں