پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کی غزہ میں اسرائیلی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت

0
2

اسلام آباد (ایم این این) – پاکستان اور سات دیگر مسلم اکثریتی ممالک نے اتوار کے روز غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ علاقائی اور عالمی شراکت دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک منصوبے پر تعاون کیا تھا۔

اس منصوبے پر عمل درآمد اکتوبر 2025 میں شروع ہوا، جس کے نتیجے میں دو سال سے زائد عرصے کے بعد غزہ میں جنگ بندی ممکن ہوئی، تاہم اسرائیل نے متعدد بار اس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر حملے جاری رکھے۔

اس وقت منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے، جس میں غیر عسکری اقدامات، تکنوکریٹک طرزِ حکومت اور غزہ کی تعمیر نو پر توجہ دی جا رہی ہے۔

آٹھوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید یا زخمی ہو چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات کشیدگی میں اضافے اور امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتے ہیں، ایسے وقت میں جب علاقائی اور بین الاقوامی فریقین صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور غزہ میں سکیورٹی اور انسانی حالات کے لحاظ سے زیادہ مستحکم مرحلے کی جانب منتقلی کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

بیان میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس نازک مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور ایسے کسی اقدام سے گریز کریں جو موجودہ عمل کو نقصان پہنچا سکے۔

مزید کہا گیا کہ جلد بحالی اور تعمیر نو کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ریاست کے قیام پر مبنی ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو فروغ دیا جائے، جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق ہو۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں