دہشت گردوں سے مذاکرات خارج از امکان، سینیٹ کی بلوچستان حملوں کی متفقہ مذمت

0
2

اسلام آباد (ایم این این): حکومت نے پیر کے روز واضح طور پر دہشت گردوں سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا، جبکہ سینیٹ نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی متفقہ طور پر مذمت کرتے ہوئے شفاف، تیز اور حتمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

سینیٹ کی قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ملکی و غیر ملکی سرپرستوں کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے۔ قرارداد میں وفاقی و صوبائی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ خصوصاً بلوچستان میں انٹیلی جنس تعاون، سرحدی سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں۔ سینیٹ نے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے دہشت گردوں سے مذاکرات کی تجویز مسترد کرتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں سے دہشت گردی کے خلاف متحدہ قومی مؤقف اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی عوام ناراض ہیں، بلکہ دہشت گرد دشمن کے اشاروں پر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ دہشت گردوں کو بغیر کسی ابہام کے دہشت گرد کہا جانا چاہیے اور ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مارکۂ حق میں دشمن کو شکست ہوئی، اسی طرح یہ عناصر بھی انجام کو پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے اور خواتین و بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے جیسے واقعات انتہائی سفاکیت کی مثال ہیں، جن کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس سمیت ٹرینوں پر حملوں کا حوالہ بھی دیا۔

مشیر نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ ریڈ زون میں داخلے کی کوششیں ناکام بنائیں اور دہشت گردوں کو ہر جگہ مؤثر جواب دے کر پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کو سیاسی مطالبات یا انتخابات سے جوڑنے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان عناصر کا نہ کوئی عوامی مینڈیٹ ہے اور نہ جمہوریت پر یقین۔

اس سے قبل آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے مربوط حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 92 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ بیان کے مطابق بھارت کے حمایت یافتہ فتنتہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں کارروائیاں کیں۔ ان حملوں میں 15 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 18 شہری جاں بحق ہوئے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملوں کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں بیرونی منصوبہ بندی کے تحت کی گئیں اور ملوث تمام عناصر اور ان کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

بحث کے دوران قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے قانون کی بالادستی، مکالمے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سیکیورٹی ناکامیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گھنٹوں آزادانہ گھومتے رہے اور کسی نے انہیں نہیں روکا، جس پر جوابدہی ضروری ہے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے دہشت گردوں کی حمایت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شہریوں کو قتل کریں، قومی پرچم جلائیں اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچائیں وہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے عوامی حمایت ناگزیر ہے اور قومی منصوبے میں پی ٹی آئی کو شامل کیے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ (UPDATED)

سینیٹ نے پیر کے روز بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعات کی شفاف، تیز اور حتمی تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ملکی و غیر ملکی سرپرستوں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا گیا کہ وہ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں، خصوصاً بلوچستان میں۔

سینیٹ نے حملوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرات اور قربانیوں کو سراہا۔ قرارداد میں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست کی یکجہتی اور عوام کی قوت ہر قسم کی انتہا پسندی اور تشدد پر غالب آئے گی۔

قرارداد میں بلوچستان میں امن، ترقی اور سیاسی شمولیت کے لیے سینیٹ کے عزم کی بھی توثیق کی گئی اور کہا گیا کہ پائیدار سیکیورٹی کا حصول سماجی و معاشی ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور آئینی حقوق کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کے روز سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ اور صوبے کے دیگر درجن بھر شہروں اور قصبات میں کالعدم تنظیموں کے مربوط حملوں کو ناکام بناتے ہوئے 92 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کے حمایت یافتہ فتنتہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی میں امن خراب کرنے کی کوشش کی۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں 15 سیکیورٹی اہلکار شہید اور 18 شہری جاں بحق ہوئے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملوں کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا۔ انہوں نے ہفتے کی رات وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عام دہشت گرد نہیں تھے بلکہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بیرونی سرپرستی میں کی گئی، اور ملوث تمام عناصر اور ان کے آقاؤں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں